زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ اس میں مومنوں کے اخلاقِ حسنہ پائے جائیں اور وہ ہر کبیرہ گناہ سے بچتا ہو، ایسے شخص کی موت اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور فرائض کی ادائیگی اسے گناہوں سے منزہ و پاک کردیتی ہے۔
حضرتِ عطاء خراسانی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ایک ایسی مجلس سے گزرے جس میں لوگ زور زور سے ہنس رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اپنی مجلس میں لذتوں کو فنا کردینے والی چیز کا ذکر کرو! پوچھا گیا: حضور وہ کیا ہے؟ آپ نے اِرشاد فرمایا: ’’وہ موت ہے۔‘‘(1)
حضرتِ اَنَس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’موت کو کثرت سے یاد کرو، اس سے گناہ ختم ہوجاتے ہیں اور دنیا سے بے رغبتی بڑھتی ہے۔‘‘(2)
فرمانِ نبوی ہے کہ موت جدائی ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ (3)
آپ نے مزید اِرشاد فرمایا کہ موت سب سے بڑا ناصح ہے۔ (4)
ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مسجد کی طرف تشریف لے جارہے تھے کہ آپ نے ایسی جماعت کو دیکھا جو ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا: موت کو یاد کرو !ربِّ ذوالجلال کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جو میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں معلوم ہوجائے تو کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔(5)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی محفل میں ایک مرتبہ ایک شخص کی بہت تعریف کی گئی۔آپ نے فرمایا: کیا وہ موت کو یاد کرتا ہے؟ عرض کیا گیا کہ ہم نے کہیں نہیں سنا۔ تب آپ نے فرمایا کہ پھر وہ ایسا نہیں ہے جیسا تم خیال کرتے ہو۔(6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…کتاب ذکر الموت لابن أبی الدنیا ،۵/۴۲۳، الحدیث۹۵و المغنی عن حمل الاسفار للعراقی،۱/۱۶۷، الحدیث۶۷۴
2… کنزالعمال،کتاب الموت، الباب الاول فی ذکر الموت وفضائلہ ، ۸/۲۳۱، الجزء الخامس عشر، الحدیث ۴۲۰۹۱
3…المرجع السابق، ص۲۳۳،الحدیث ۴۲۱۰۸ ملخصاً
4…شعب الایمان ، الحادی والسبعون۔۔۔الخ، باب فی الزھد۔۔۔الخ ۷/۳۵۳، الحدیث ۱۰۵۵۶
5…کتاب ذکر الموت لابن أبی الدنیا،۵/۴۲۳،الحدیث۹۶ و المطالب العالیۃ للعسقلانی،۷/۵۷۴، الحدیث۳۱۴۵ و إتحاف الخیرۃ المہرۃ للبوصیری،۱۰/۷۱، الحدیث۹۶۱۶
6…الزھد لابن المبارک، باب ذکر الموت ،ص ۹۰،الحدیث ۲۶۵