Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
184 - 676
باب28
ذکرِ مرگ
	فرمانِ نبی  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے:کَثِّرُوْا مِنْ ذِکْرِ ھَاذِمِ اللَّذَات(1) لذتوں کو مٹانے والی (یعنی موت) کو بہت یاد کرو۔
	اس فرمان میں یہ اِشارہ ہے کہ انسان موت کو یاد کر کے دنیاوی لذتوں سے کنارہ کش ہوجائے تاکہ اسے بارگاہِ ربوبیت میں مقبولیت حاصل ہو۔
موت کو یاد کرنے والا شہیدوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا
	فرمانِ نبوی ہے: اگر تمہاری طرح جانور موت کو جان لیتے تو ان میں کوئی موٹا جانور کھانے کو نہ ملتا۔ (2)
	حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کسی کا حشر شہیدوں کے ساتھ بھی ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! جو شخص دن رات میں بیس مرتبہ موت کو یاد کرتا ہے وہ شہید کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔(3)
	اِس فضیلت کا سبب یہ ہے کہ موت کی یاد دنیا سے دل اُچاٹ کردیتی ہے اور آخرت کی تیاری پر اُکساتی ہے لیکن موت کو بھول جانا انسان کو دنیاوی خواہشات میں منہمک کردیتا ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے کہ ’’موت مومن کے لئے ایک تحفہ ہے‘‘(4)اس لئے کہ مومن دنیا میں قید خانے جیسی زندگی بسر کرتا ہے، اسے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی اور شیطان کی مدافعت کرنا پڑتی ہے اور یہ چیز کسی مومن کے لئے عذاب سے کم نہیں مگر موت اسے ان مصائب سے نجات دلاتی ہے لہٰذا یہ اس کے لئے تحفہ ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے کہ موت مسلمان کے لئے کفارہ ہے۔(5) مسلمان سے مراد وہ مومن کامل ہے جس کے ہاتھ اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترمذی، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی ذکر الموت، ۴/۱۳۸، الحدیث ۲۳۱۴
2…شعب الایمان، الحادی والسبعون من۔۔۔الخ، باب فی الزھدوقصرالامل ، ۷/۳۵۳، الحدیث ۱۰۵۵۷
3…بریقۃ محمودیۃ فی شرح طریقۃ محمدیۃ ، ۲/۱۱۶و المغنی عن حمل الأسفار، ۲/۱۲۰۰و قوت القلوب، ۲/۴۳
4…شعب الایمان، السبعون من شعب الایمان، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع۔۔۔الخ، ۷/۱۷۱،الحدیث ۹۸۸۴
5…المرجع السابق، الحدیث ۹۸۸۶