جن کے بعد ندامت اور پشیمانی ہو اس عبادت سے اچھے ہیں جس میں تکبر اور ریا شامل ہو۔
فرمانِ الٰہی ہے :
وَبَدَا لَھُمْ مِّنَ اللہِ مَالَمْ یَکُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ(1 )
بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیک عمل کر کے اترایا کرتے تھے، آخرت میں ان کی وہ نیکیاں برائیوں کی شکل میں ظاہر ہوں گی۔ ایک بزرگ جب یہ آیت پڑھتے تو فرمایا کرتے کہ دکھاوے کی عبادت کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے اور فرمانِ الٰہی:
’’ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کر ‘‘ (2)
سے بھی بعض علماء نے رِیا کی شرکت مرادلی ہے۔
حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے کہ سب سے آخر میں قرآنِ مجیدکی یہ آیت نازل ہوئی:
وَاتَّقُوۡا یَوْمًا تُرْجَعُوۡنَ فِیۡہِ اِلَی اللہِ٭۟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوۡنَ﴿۲۸۱﴾٪ (3)
اور ڈرو اس دن سے جس میں تم ا للّٰہکی طرف لوٹائے جاؤگے پھر ہر نفس کو اپنے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہو گا۔
محمد بن بشیر رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ فرماتے ہیں :
مضی امسک الادنی شھیدا معدلا ویو مک ھذا بالفعال شہید
فان تک بالامس اقترفت اساء ۃ فثن باحسان وانت حمید
ولا ترج فعل الخیر منک الی غد لعل غدا یأ تی وانت فقید
{1}…تیرا کثیر وقت گزر چکا، اس بقیہ تھوڑے کو کام میں لا اس طرح کہ تو عادل گواہ ہو اور تیرے یہ اَفعال تیری نیک خصلتوں کی شہادت دیں گے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂکنزالایمان:اور انہیں اللہکی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی ۔ (پ۲۴،الزمر:۴۷)
2…ترجمۂکنزالایمان: اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔ (پ۱۶،الکھف:۱۱۰)
3…ترجمۂکنزالایمان: اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ کی طرف پھروگے اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھردی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔ (پ۳،البقرۃ:۲۸۱)