Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
180 - 676
 برائیوں کے گواہ بن رہے ہیں اور تیری ایسی پوشیدہ برائیوں سے واقفیت حاصل کررہے ہیں جن کو تو لوگوں کے سامنے کرنے سے گھبراتا ہے۔
	قاضی الارجانی کہتے ہیں :
٭… اے میری دو آنکھو! تم نے غلط نگاہی سے کام لیکر میرے دل کو بہت بری جگہ پر لاکھڑا کیا ہے۔
٭…اے میری آنکھو! میرے دل کو گمراہ کرنے سے رک جاؤ، تم دو ہو کر ایک کو قتل کرنے کی کوشش کررہے ہو۔
	حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا فرمان ہے کہ آنکھیں شیطان کا جال ہیں آنکھ سریع الاثر عضو ہے اور بہت ہی جلد شکست کھا جاتا ہے، جس کسی نے اپنے اعضائے بدن کو اللہ تَعَالٰی کی عبادت میں استعمال کیا، اس کی امید بَر آئی، اور جس نے اپنے اعضائے بدن کو خواہشات کے پیچھے لگا دیا، اس کے اعمال باطل ہوگئے۔
حضرتِ عبدا  للّٰہ بن مبارک رَحْمَۃُ ا  للّٰہِ عَلَیْہ کی نصائح:
	حضرتِ عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہنے کہا ہے: ایمان کی حقیقت رسولوں کی لائی ہوئی کتابوں کی تصدیق کو کہا جاتا ہے جو قرآن کی تصدیق کرتا ہے اس کے احکامات پر عمل کرتا ہے اسے جہنم سے نجات مل گئی۔
	جو حرام کردہ چیزوں سے کنارہ کش ہوا وہ توبہ پر مائل ہوا، جس نے رزقِ حلال کھایا وہ متقی بن گیا، جس نے فرائض کو انجام دیا اس کا اسلام مکمل ہوگیا، جس نے زبان کو راست گو بنایا وہ ہلاکت سے بچ گیا، جس نے ظلم کو ناپسند کیا وہ قصاص سے بچ گیا، جس نے سنن کو ادا کیا، اس کے اعمال پاکیزہ ہوگئے اور جس نے خلوص سے اللہ کی عبادت کی اس کے اعمال مقبول ہوگئے۔
	حضرتِ ابو الدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛ انہوں نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے عرض کیا :مجھے وصیت فرمائیے!آپ نے فرمایا:’’ پاکیزہ ہنر اختیار کر، نیک عمل کر، اللہ تَعَالٰی سے ہر دن کا رزق طلب کرتا رہ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر۔(1) 
	اور ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نیک اعمال پر نہ اترائے کیونکہ یہ اعمال کے لئے ایک عظیم ہلاکت ہے، ایسا آدمی عمل کر کے اللہ تَعَالٰی پر احسان دھرتا ہے حالانکہ اسے یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کا عمل مقبول ہوا یا نہیں ، ایسے گناہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 1…ادب الدنیا والدین ،۱/۱۴۸ ملخصًا