حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا اِرشاد ہے کہ تین چیزوں میں بھلائی ہے: بولنے، دیکھنے اور چپ رہنے میں ۔
جس کا بولنا ذکرِ خدا نہیں وہ بولنا’’ لغو‘‘ ہے،
جس کا دیکھنا عبرت کی نگاہ سے نہیں وہ دیکھنا ’’سہو و نسیان‘‘ ہے اور
جس کی خاموشی اپنے انجام پر غور کرنے کے لئے نہیں اس کی خاموشی ’’بیکار‘‘ ہے کیونکہ’’ تفکر‘‘ہی سے دنیاوی میلان ختم ہوتا ہے، پسندیدہ چیزوں کی تمنا مرجھا جاتی ہے اور انسان غور و فکر کا عادی ہو جاتا ہے۔
انسان کو حرام چیزوں کی طرف نگاہ نہیں ڈالنی چاہئے کیونکہ نظر ایک ایسا تیر ہے جو خطا نہیں ہوتا اور یہ ایک زبردست قوت ہے۔
فرمانِ نبوی ہے: نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے، جس نے خوف خدا کی وجہ سے اسے حرام سے بچا لیا، اللہ تَعَالٰی اسے ایسا ایمان عطا کرے گا جس کی لذت وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کریگا۔(1)
حکماء کا قول ہے: جس نے اپنی نگاہ کو آوارہ چھوڑ دیا اس نے بے انتہا شرمندگی اٹھائی، یہ آزاد نگاہی انسان کو بے نقاب کردیتی ہے، اسے ذلیل و خوار کرتی ہے اور جہنم میں طویل مدت تک رہنے کو اس پر واجب کردیتی ہے، اپنی نظر کی حفاظت کر! اگر تونے اسے آوارہ چھوڑ دیا تو برائیوں میں گھر جائیگا اور اگر تو نے اس پر قابو پالیا تو تمام اعضائے بدن تیرے مطیع ہوجائیں گے۔
افلاطون سے پوچھا گیا کہ دل کے لئے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز کان ہے یا آنکھ؟ اس نے کہا: یہ دونوں دل کے لئے پرندے کے دو پروں کی طرح ہیں ، وہ انہیں کی قوت سے اڑتا ہے، جب ان میں سے کوئی پَر ٹوٹ جاتا ہے تو وہ اڑنے میں بہت دشواری محسوس کرتا ہے۔
حضرت محمد بن ضوء کا قول ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے ہر ذی عقل کے لئے یہ سزا رکھ دی ہے کہ وہ ہر اس چیز کے دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے جس سے وہ نفرت کرتا ہے۔
ایک زاہد نے کسی شخص کو دیکھا، وہ ایک لڑ کے سے ہنسی مذاق کررہا تھا، زاہد نے اس سے کہا: اے عقل کے اندھے! تجھے کراماً کاتبین اور محافظ فرشتوں سے بھی شرم نہیں آتی جو تیرے اعمال لکھ کر انہیں محفوظ کرتے جارہے ہیں اور تیری ان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…المستدرک للحاکم، کتاب الرقاق، باب الزھد فی الدنیا۔۔۔ الخ ،۵/۴۴۶، الحدیث ۷۹۴۵