{1}…کتنی نعمتیں ایسی ہیں جو مصائب سے گھری ہوئی ہیں ۔
{2}…اور کتنی مسرتیں ایسی ہیں جو مصائب کی طرح نازل ہوئیں ۔
{3}…خوشی اور غم دونوں میں صبر کر کیونکہ ہر کام کا ایک انجام ہوتا ہے۔
{4}…ہر غم کے بعد خوشی ہے اور ہر خوبی میں برائی پوشیدہ ہے۔
ہمارے لئے یہ ارشادِ ربانی کافی ہے کہ
’’ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہوتی ہے۔‘‘(1)
بندہ کی عبادت اور طاعت حب دنیا ترک کئے بغیر نا مکمل رہتی ہے۔
ایک دانشور کا قول ہے کہ بہترین نصیحت وہ ہے جو دل پر کوئی حجاب نہ رہنے دے اور یہ حجابات دنیاوی تعلقات ہیں (یعنی اس نصیحت سے تمام دنیاوی تعلقات دل سے منقطع ہوجائیں ۔ ) ایک اور حکیمانہ مقولہ ہے کہ دنیا ایک لمحہ ہے، اسے طاعت و بندگی میں گزار دے۔ ابو الولید الباجی کا قول ہے: ؎
اذاکنت اعلم علما یقینا بان جمیع حیاتی کساعۃ
فلم لا اکون ضنینا بہا واجعلھا فی صلاح وطاعۃ
{1}… جب تم خوب اچھی طرح جانتے ہوکہ تمہاری زندگی ایک ساعت سے زیادہ نہیں ۔
{2}…تو تم اسے احتیاط سے کیوں خرچ نہیں کرتے اسے طاعت و عبادت میں کیوں بسر نہیں کرتے۔(2)
ایک شخص نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے عرض کی: یارسول اللہ! میں موت کو ناپسند کرتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: تیرا مال وغیرہ ہے؟ عرض کی: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: مال کو پہلے بھیج دو کہ آدمی اپنے مال کے ساتھ ہوگا۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂکنزالایمان:اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بُری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔ (پ۲،البقرۃ:۲۱۶)
2…ان اشعار کا ترجمہ یوں ہونا چاہیے :
{1}… جب میں خوب اچھی طرح جانتا ہوںکہ میری زندگی ایک ساعت سے زیادہ نہیں۔
{2}…تو میں اسے احتیاط سے کیوں خرچ نہیں کرتا اسے طاعت و عبادت میں کیوں بسر نہیں کرتا۔
ہو سکتا ہے مترجم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس مکاشفۃ القلوب کا جو نسخہ ہو اس میں یہ اَشعارحاضر کے صیغۂ کے ساتھ ہوں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔علمیہ
3…الزھد لابن مبارک، باب فی طلب الحلال،ص۲۲۴، الحدیث۶۳۴