فرمانِ الٰہی ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیۡرُۨ اطْمَاَنَّ بِہٖ ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُۨ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ۟ۚ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ (1)
اور بعض لوگوں سے وہ ہے جو کنارے پر اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر اسے بھلائی ملے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے آزمائش پڑے تو اپنے منہ واپس پلٹ جائے دنیا اور آخرت کو خسارے میں دیا۔
اگر اللہ تَعَالٰی اعمال پر اجر نہ دیتا تب بھی اس کے اِحسانات اور اِنعامات اتنے ہیں کہ ہم پر اس کی عبادت اور اطاعت ضروری تھی چہ جائیکہ اس کا حکم بھی ہو اور اَجر کا وعدہ بھی ہو۔
’’ توکل‘‘یہ ہے کہ انسان حاجت مندی کے وقت اللہ تَعَالٰی پر اعتماد کرے، ضرورت کے وقت اسی کی طرف رجوع کرے اور مصائب کے نزول میں اطمینانِ قلب اور کامل سکون کا ثبوت فراہم کرے کیونکہ متوکل آدمی خوب جانتا ہے کہ مصائب کا ورود اللہ ہی کی طرف سے ہے، وہ خیر و شر کے ہر کام کو باپ بیٹے، مال و دولت کی طرف سے نہیں خالق کائنات کی طرف سے سمجھتے ہیں اور کسی بھی حالت میں اللہ تَعَالٰی کے سوا کسی اور پر اعتماد نہیں کرتے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ (2) جو اللہ پر توکل رکھتا ہے پس اللہ اسے کافی ہے۔
’’رضا‘‘ کا معنی یہ ہے کہ انسان اللہ کے جاری کردہ اُمور کو مسکراتے ہوئے قبول کرے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو اس کی رضا پر راضی ہے، حکماء کا قول ہے کہ بہت سی مسرتیں بیماری ہوتی ہیں اور بہت سی بیماریاں شفاء ہوتی ہیں ۔ کسی شاعر کا قول ہے: ؎
کم نعمۃ مطویۃ لک بین انیاب النوائب
و مسرۃ قد اقبلت من حیث ترتقب المصائب
فاصبر علی حدثان دھرک فالامور لہا عواقب
ولکل کرب فرجۃ ولکل خالصۃ شوائب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی بن گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آ پڑی منہ کے بل پلٹ گئے دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا ۔ (پ۱۷،الحج:۱۱)
2…ترجمۂکنزالایمان: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (پ۲۸،الطلاق:۳)