Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
176 - 676
 پر یقین حاصل کرے تو وہ ہوا پر اُڑے اور پانی پر چلے، پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی معرفت کے ادراک پر انسان کے اقرارِ عاجزانہ کو ایمان قرار دیا اور عطا کردہ نعمتوں پر انسان کے شکر نہ کرسکنے کے اعتراف کو شکر قرار دیا ہے۔
	حضرت محمود الوراق کے اشعار ہیں :   
اذا کان شکری نعمۃ اللہ نعمۃ		علی لہ فی مثلہا یجب الشکر
فکیف بلوغ الشکر الا بفضلہ 		وان طالت الایام واتصل العمر
اذا  مس  بالسراء  عم  سرورھا		وان مس بالضراء اعقبھا الاجر
وما   منہما   الا   لہ   فیہ   نعمۃ		تضیق لھا الاوھام والبرو البحر
{1}…جبکہ اللہ تَعَالٰی کی نعمتوں پر میرا شکر کرنا بھی اللہ کی ایک نعمت ہے جس پر شکر واجب ہے۔
{2}…پس میں کیسے اس کے کرم کے بغیر شکریہ ادا کرسکتا ہوں اگرچہ مجھے بہت طویل زندگی بھی دے دی جائے۔
{3}…جب انسان کو خوشی ملتی ہے تو مسرتیں عام ہوجاتی ہیں اور جب کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اس کے بعد اسے بہترین اجر ملتا ہے۔
{4}…ہر خوشی اور غمی میں اللہ تَعَالٰی کی ایسی نعمت پوشیدہ ہے جو بحر وبر میں نہیں سما سکتی۔
	جب معرفت خداوندی حاصل ہوجائے تو بندگی کا اقرار لازمی ہے اور جب ایمان دل میں جاگزیں ہوجائے، رب تعالیٰ کی طاعت واجب ہوجاتی ہے۔
	ایمان کی دو قسمیں ہیں : ظاہر اور باطن،زبان سے اقرار کو ظاہر اور دل سے تصدیق کو باطن کہتے ہیں ۔ قربِ خداوندی اور عبادت و اطاعت میں مومنوں کے مختلف درجات ہیں مگر ایمان میں سب برابر کے شریک ہیں ۔ جو مومن توکل، اخلاص اور اللہ کی رضا جوئی میں جتنا حصہ رکھتا ہے اسی قدر اس کا مرتبہ بلند ہوتا ہے۔
	اخلاص یہ ہے کہ بندہ اللہ تَعَالٰی سے اپنے اَعمال کے اَجر کا طالب نہ ہو، اس لئے کہ جو شخص ثواب کی اُمید اور عذاب کے خوف سے عبادت کرتا ہے اس کا اخلاص مکمل نہیں ہوتا کیونکہ اس نے تو اپنی بھلائی کے لئے عبادت کی ہے، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ہے کہ بُرے کتے کی طرح نہ بنو جو ڈر کے مارے کام کرتا ہے، نہ ہی برے مزدور کی طرح بنو جو اجرت کے بغیر کام ہی نہیں کرتا۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…حلیۃ الاولیاء، ۴/۵۶، الحدیث۴۷۳۱ (بالعبد مکان الکلب)