Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
175 - 676
 باب 27
عبادت گزاری و ترکِ حرام
	طاعت کے معنٰی : فرائض کی ادائیگی، حرام چیزوں سے پرہیز اور حدودِ شرع پر کاربند ہونا ہے۔ حضرتِ مجاہد رَحْمَۃُ اللہ ِعَلَیْہ فرمانِ الٰہی:  وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا (1) کے متعلق کہتے ہیں : ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ تَعَالٰی کی عبادت و اطاعت کرتا رہے۔‘‘
طاعت کی حقیقت:
	طاعت کی حقیقت اللہ تَعَالٰی کی معرفت، خوفِ خدا، اللہ تَعَالٰی سے امید ہمہ وقت اللہ تَعَالٰی کی طرف رجوع ہونا ہے، وہ بندہ جو اِن اَوصاف سے خالی ہوتا ہے وہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پاسکتا لہٰذا اطاعت اس وقت تک صحیح نہیں ہوتی جب تک کہ بندہ اللہ کی معرفت اور اس بے مثل، بے مثال قادر و خالق ربِّ ذوالجلال کی تمام صفتوں پر ایمان نہیں لاتا۔
	ایک بدوی نے حضرت محمد بن علی بن حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ سے عرض کی کہ تم نے اللہ کو دیکھا ہے اس کی عبادت کرتے ہو! آپ نے فرمایا: ہاں ! دیکھ کر عبادت کرتا ہوں ۔ پوچھا: وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: وہ آنکھوں کے نور سے نہیں دل کے ادراک سے دیکھا جاتا ہے، اسے حواس نہیں پاسکتے، وہ اپنی لاتعداد نشانیوں سے پہچانا جاتا ہے، بے اندازہ اوصاف سے موصوف ہے، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، وہ آسمان و زمین کا مالک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ بدوی بے ساختہ کہہ اٹھا :اللہ جانتا ہے کہ اسے کس گھرانے میں اپنا رسول بھیجنا ہے۔
باطنی علم کیا ہے؟
	ایک عارف سے باطنی علم کے متعلق پوچھا گیا: انہوں نے کہا: وہ اللہ تَعَالٰی کا راز ہے جسے وہ اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے اور کسی فرشتے اور انسان کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔
	حضرتِ کعب احبار رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے؛ انہوں نے کہا: اگر انسان ایک دانے کے برابر اللہ تَعَالٰی کی عظمت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂکنزالایمان:  اور دنیا میں اپنا حصّہ نہ بھول ۔(پ۲۰،القصص:۷۷)