Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
174 - 676
 کے قرض پر لونڈی خریدی ہے، اس کی امیدیں بہت طویل ہیں ۔ ربِّ ذوالجلال کی قسم! میں آنکھیں کھولتا ہوں تو مجھے اتنی امید نہیں ہوتی کہ پلکیں ایک دوسرے سے ملیں گی یا اللہ تَعَالٰی اس سے پہلے میری روح قبض فرمالے گا، میں تو نگاہ اٹھانے کے بعد نگاہ کی واپسی کی امید نہیں رکھتا، لقمہ منہ میں ڈال کر اسے چبانے تک زندگی کی امید نہیں رکھتا پھر ارشاد فرمایا: اے لوگو! اگر تم عقلمند ہو تو اپنے آپ کو مردوں میں شامل سمجھو، ربِّ ذوالجلالکی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم پر ایک وقت مقرر (موت) آئے گا جس کو تم ٹال نہیں سکو گے۔(1)
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مٹی سے مسح فرمالیتے، میں عرض کرتا حضور پانی قریب ہے آپ فرماتے کیا خبر میں پانی تک پہنچ سکوں یا نہ پہنچ سکوں ۔ (2)
	روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے تین لکڑیاں لیں ، ایک کو سامنے، دوسری کو پہلو میں اور تیسری کو دور نصب فرمایا اور فرمایا: جانتے ہو! یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) بہتر جانتا ہے۔ فرمایا:’’ یہ انسان ہے، یہ موت ہے اور وہ انسان کی امیدیں ہیں ، آدمی امیدوں کے پیچھے بھاگتا ہے مگر راستہ میں اسے موت آلیتی ہے۔(3)
حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا ایک واقعہ :
	مروی ہے کہ حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام بیٹھے ہوئے تھے اور ایک بوڑھا پھاؤڑے سے زمین کھود رہا تھا، آپ نے اللہ تَعَالٰی سے دعا مانگی: اے اللہ! اس سے زندگی کی امید چھین لے۔ بوڑھے نے پھاؤڑا رکھ دیا اور لیٹ گیا، جب کچھ دیر گزر گئی تو آپ نے اللہ تَعَالٰی سے دعا کی کہ اسے اس کی امیدیں لوٹا دے۔ بوڑھا کھڑا ہوگیا اور پھاؤڑے سے زمین کھودنے لگا تو آپ نے اس کا سبب پوچھا: تو وہ کہنے لگا: کام کرتے ہوئے میرے دل میں خیال آیا کہ میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں ، کب تک یہ کام کرتا رہوں گا لہٰذا میں نے پھاؤڑا رکھ دیا اور لیٹ گیا، کچھ دیر بعد میرے دل میں خیال آیا تجھے زندگی گزارنے کے لئے ضرور کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے چنانچہ میں پھاؤڑا سنبھال کر پھر کھڑا ہوگیا اور کام کرنے لگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…تاریخِ مدینہ دمشق، ۸/۷۵
2…مسند احمد، مسند عبداللہ  بن العباس۔۔۔ الخ، ۱/۶۱۸، الحدیث ۲۶۱۴
3…مسند احمد ، مسند ابی سعید الخدری، ۴/۳۷، الحدیث ۱۱۱۳۲