Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
172 - 676
باب26
طُولِ اَمل
امیدوں کا سہارا اور فرمانِ نبوی:
	فرمانِ نبوی ہے کہ میں تم پر دوچیزوں کے تسلط سے ڈرتا ہوں ، طُولِ اَمَل یعنی لمبی امیدیں اور خواہشات کی پیروی، بے شبہ طویل امیدیں آخرت کی یاد بھلا دیتی ہیں اور خواہشات کی پیروی حق و صداقت سے روک دیتی ہے۔(1)
	فرمانِ نبوی ہے کہ میں تین شخصوں کے لئے تین چیزوں کا ضامن ہوں : دنیا میں ہمہ تن غرق دنیا کے حریص اور بخیل کے لئے دائمی فقر، دائمی مشغولیت اور دائمی غم مقدر کیا گیا ہے۔(2)
	حضرتِ ابو الدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حمص والوں سے کہا: تمہیں شرم نہیں آتی تم ایسے مکانات بناتے ہو جن میں تمہیں نہیں رہنا، ایسی اُمیدیں رکھتے ہو جنہیں نہیں پاسکتے اور ایسا سامان جمع کرتے ہو جسے اپنے مصرف میں نہیں لاتے۔ تم سے پہلی امتوں نے عالیشان عمارتیں بنوائیں ، بہت مال و دولت جمع کیا اور طویل ترین امیدیں رکھیں مگر ان کی امیدیں فریب نکلیں اور ان کا جمع کردہ مال برباد اور ان کی عمارتیں قبریں بن گئیں ۔ (3)
	حضرتِ علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے کہا: اگر تم اپنے دوست سے آرزوئے ملاقات رکھتے ہو تو پیوند لگا کپڑا پہنو، پرانا جوتا استعمال کرو، امیدیں کم کرو اور پیٹ بھر کر نہ کھاؤ۔
	حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَامنے اپنے بیٹے شیث عَلَیْہِ السَّلَام کو پانچ باتوں کی وصیت کی اور فرمایا: اپنی اولاد کو بھی یہی وصیت کرنا، عارضی دنیا پر مطمئن نہ ہونا! میں جاودانی جنت میں مطمئن تھا، اللہ تَعَالٰی نے مجھے وہاں سے نکال دیا۔ عورتوں کی خواہشات پر کام نہ کرنا!میں نے اپنی بیوی کی خواہش پر شجر ممنوعہ کھا لیا اور شرمندگی اٹھائی۔ ہر ایک کام کرنے سے پہلے اس کا انجام سوچ لو! اگر میں انجام سوچ لیتا تو جنت سے نہ نکالا جاتا۔ جس کام سے تمہارا دل مطمئن نہ ہو اس کام کو نہ کرو کیونکہ جب میں نے شجرِ ممنوعہ کھایا تو میرادل مطمئن نہیں تھا مگر میں اس کے کھانے سے باز نہ رہا۔ کام کرنے سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…شعب الایمان، الحادی و السبعون من شعب الإیمان، فصل  فیما بلغنا عن الصحابۃ۔۔۔الخ ،۷/۳۶۹، الحدیث۱۰۶۱۳
2…فردوس الاخبار، ۱/۴۵، الحدیث۱۳۳		
3…تاریخِ مدینہ دمشق ،۴۷/۱۳۳