Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
170 - 676
 بخیلوں کے بارے میں ایک شاعر کا قول ہے:   ؎
ااخی ان من الرجال بھیمۃ		فی صورۃ الرجل اللبیب المبصر
فطن بکل مصیبۃ فی مالہ		فاذااصیب بدینہ لم یشعر
{1}…اے بھائی! عقلمند لوگوں کی شکل میں بہت سے جانور بھی ہوتے ہیں ۔ 
{2}…جو اپنے مال کی ہر اونچ نیچ کو جانتے ہیں لیکن اگر ان کا دین چلا جائے تو انہیں محسوس بھی نہیں ہوتا۔
	ایک اور شاعر کہتا ہے:   ؎
البخل  داء  دوی  لایلیق  بذی		مروء ۃ    ولا   عقل   ولا   دین
 من اثر البخل عن وفر وعن جدۃ		فقد لعمری اضحی وھو مغبون
 یابوس من منع الدارین حقہما		فباء   دنیاہ   بعد  الدین   بالدون
{1}…بخل ایسی بیماری ہے جو کسی بامروت، عقلمند اور دیندار کے لائق نہیں ۔ 
{2}…جس نے مال ودولت حاصل کر کے بخل کیا مجھے زندگی کی قسم وہ دھو کے میں رہا۔
{3}…ہائے افسوس! جس نے دنیا و آخرت کے حقوق ادا نہ کئے اس نے حقیر چیز کے بدلے اپنے دین کے بعد دنیا بھی بیچ ڈالی۔
	ایک اور شاعر کہتا ہے:   ؎
اذا المال لم ینفع صدیقا ولم یصب		قریبا  ولم  یجبر بہ  حال  معدم
فعقباہ  ان  تحتازہ  کف  وارث		وللباخل المورث عقبی التندم
{1}…جب مال کسی دوست کو نفع نہ پہنچائے، کسی عزیز کے کام نہ آئے اور کسی تنگدست کی حاجت روائی نہ کرے۔
{2}…تو اَنجام یہ ہوگا کہ مال تو وارث کے ہتھّے چڑھے گا اور بخیل قیامت کی شرمندگی اپنے ساتھ لے جائے گا۔
	حضرت بشر کا قول ہے کہ بخیل کی ملاقات موجب ملال اور اسے دیکھنا دل کی سنگینی میں اضافہ کرتا ہے، عرب ایک دوسرے کو بخل اور بزدلی پر شرم دلایا کرتے تھے۔شاعر کہتا ہے:   ؎
انفق ولا تخش اقلا لا فقد قسمت	علی العباد من الرحمن ارزاق
لاینفع  البخل  مع  دنیا  مولیۃ	ولایضر   مع   الاقبال   انفاق