Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
169 - 676
 جب کوئی قوم اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دیتی ہے تو اس پر اس کے دشمن مسلط ہوجاتے ہیں جو ان سے ان کا مال و دولت چھین لیتے ہیں اور جس قوم کے فرمانروا کتاب اللہ سے فیصلہ نہیں کرتے، ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے خوف پیدا ہوجاتا ہے۔(1)
	فرمانِ نبوی ہے: ’’اللہ تَعَالٰی بخیل کی زندگی اور سخی کی موت کو ناپسند فرماتا ہے۔‘‘(2)
	فرمانِ نبوی ہے: ’’دو عادتیں مومن میں جمع نہیں ہوسکتیں ، بخل اور بد خلقی۔‘‘(3)
	 فرمانِ نبوی ہے:’’اللہ تَعَالٰی نے قسم کھائی ہے کہ بخیل کو جنت میں نہیں بھیجے گا۔‘‘(4)
	 فرمانِ نبوی ہے: ’’بخل سے بچو! جس قوم میں بخل آجاتا ہے وہ لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے، صلہ رحمی نہیں کرتے اور ناحق خون ریزیاں کرتے ہیں ۔ ‘‘(5)
	فرمانِ نبوی ہے: اللہ تَعَالٰی نے رکاکت اور شعلہ پن کو پیدا کیا اور اسے مال اور بخل سے ڈھانپ دیا۔ (6)
	حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے بخل کے متعلق پوچھا گیا؛ آپ نے فرمایا: بخل یہ ہے کہ انسان راہِ خدا میں خرچ کرنے کو مال کا ضیاع اور مال جمع کرنے کو خوبی سمجھے، بخل کی بنیاد، اولاد اور مال کی محبت، فقر و فاقہ کا خوف اور طولِ اَمَل ہے۔
	حدیث شریف میں ہے: بیشک اولاد بزدل اور بخیل بنا دینے والی ہے۔(7)
	بعض آدمی ایسے ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ کی ادائیگی اوراپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے ان کی محبت روپیہ جمع کرنے اور اسے سنبھال کر رکھنے میں ہوتی ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں ایک دن مرجانا ہے۔ ان
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…شعب الایمان، باب الثانی والعشرین۔۔۔الخ، باب فی الزکاۃ ، ۳/۱۹۷،الحدیث ۳۳۱۴
2…کنزالعمال،کتاب الاخلاق، الباب الثانی فی الأخلاق والأفعال۔۔۔الخ، ۲/۱۸۰، الجزء الثالث ،الحدیث ۷۳۷۳ 
3…ترمذی ،کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی البخل، ۳/۳۸۷، الحدیث ۱۹۶۹
4…تاریخ مدینہ دمشق، ۵۷/۳۷۳ 
5…کنزالعمال ، کتاب الاخلاق، ۲/۱۸۲،الجزء الثالث، الحدیث ۷۴۰۱
6…المرجع السابق ، ص ۱۸۳، الحدیث ۷۴۰۷
7… یہ حدیث شریف یہاں لکھنے سے رہ گئی تھی ،’’ مکاشفۃ القلوب ‘‘(عربی) میں اس مقام پر یہ حدیث موجود ہے:  ’’ اِنَّ الْوَلَدَ مَجْبَنَۃٌ مَبْخَلَۃٌ  ‘‘  (مسند احمد، حدیث یعلی بن مرۃ الثقفی، ۶/۱۷۸، الحدیث: ۱۷۵۷۳)لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے اس حدیث کا ترجمہ یہاں لکھ دیا ہے۔ علمیہ