Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
168 - 676
باب25
زکوۃ اور بُخل
	فرمانِ الٰہی ہے: 
	جو لوگ اللہتعالیٰ کے عطا کردہ ما ل میں بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے لیے بہترنہ سمجھیں بلکہ یہ ان کے لیے مصیبت ہے عنقریب بخل کردہ مال سے قیامت کے دن ان کو طوق پہنائے جائیں گے۔(1)
	فرمانِ الٰہی ہے:
	ان مشرکین کے لیے ہلاکت ہے جو زکوٰۃ نہیں اد اکرتے ۔(2)
	اِس آیت کریمہ میں اللہ تَعَالٰی نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کو مشرک کہا ہے۔ 
	فرمانِ نبوی ہے: جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کی گردن میں جھول رہا ہوگا۔(3)
حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے پانچ باتوں سے اللہ کی پناہ مانگی
	فرمانِ نبوی ہے: اے گروہ مہاجرین! پانچ بلائیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں اللہ تَعَالٰی سے تمہارے لئے پناہ مانگتا ہوں : جب کسی قوم میں کھلم کھلا بدکاریاں ہوتی ہیں تو اللہ تَعَالٰی ان پر ایسے مکروہات نازل کرتا ہے جو پہلے کسی پر نازل نہیں ہوتے۔ جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو ان پرتنگدستی، قحط سالی اور ظالم حاکم مسلط کردیا جاتا ہے، جب کوئی قوم اپنے مالوں کی زکوٰۃ نہیں دیتی انہیں خشک سالی گھیر لیتی ہے، اگر زمین پر چوپائے نہ ہوں تو کبھی ان پر بارش نہ برسے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ترجمۂکنزالایمان: اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہنے انہیں اپنے فضل سے دی، ہر گز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے بُرا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔( پ۴، اٰلِ عمران:۱۸۰)
2…ترجمۂکنزالایمان: اور خرابی ہے شرک والوں کو، وہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے۔( پ۲۴، حٰمٓ السجدہ :۶،۷)
3…ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب جاء فی منع الزکاۃ، ۲/۳۶۹،الحدیث ۱۷۸۴