رُک گئی اور غارکا منہ بند ہوگیا، انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ ہر ایک اپنے اچھے اعمال کو یاد کر کے دعا مانگے تاکہ یہ چٹان ہٹ جائے،ایک اور روایت کے لفظ یہ ہیں ؛ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: ذرا سوچو اور کوئی ایسا عمل یاد کرو جو تم نے اللہ کی رضا جوئی میں کیا ہواور اس عمل کو واسطہ بناکر اس چٹان سے نجات کی دعا مانگو، ایک اور روایت کے الفاظ ہیں : چٹان گرنے کی وجہ سے غار کا نشان مٹ گیا، اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتا ہم کہاں ہیں ، اللہ تَعَالٰی سے اپنے بہترین عمل کو سامنے رکھتے ہوئے دعا کریں ، تب ان میں سے ایک نے کہا: الٰہ العالمین! میرے والدین بوڑھے تھے، میں ان سے پہلے شام کو کسی بچے کو دودھ نہیں پلایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا، میں کسی کام سے چلاگیا، جب میں واپس آیا تو وہ سوچ کے تھے، میں نے دودھ دوہا اور ساری رات دودھ لیکر سرہانے کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور میرے بچے ساری رات بھو کے سوتے رہے، اے ربِ ذوالجلال! میں نے یہ سب کچھ تیری رضا جوئی کے لئے کیا تھا، اب تویہ چٹان ہم سے ہٹادے اس دعا کے بعد چٹان اتنی ہٹ گئی کہ سورج کی روشنی اندر آنے لگی۔ (1)
ایک روایت کے الفاظ ہیں : میرے چھوٹے بچے تھے، میں جب بکریاں چرا کر واپس آتا تو دودھ دوہ کر پہلے والدین کو پلاتا پھر بچوں کو دیتا۔ ایک مرتبہ مجھے ضروری کام کے لئے جانا ہوا، واپسی اس وقت ہوئی جب میرے والدین سوچ کے تھے، میں نے حسب معمول دودھ نکالا اور لیکر والدین کے سرہانے کھڑا ہوگیا اور بچے میرے قدموں میں پڑے دودھ طلب کرتے رہے مگر میں نے والدین کو دودھ پلائے بغیر انہیں دودھ دینا مناسب نہ سمجھا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ اے اللہ! اگر میرا یہ عمل تیری رضا جوئی میں تھا تو اس چٹان کو ہٹادے کہ ہم آسمان کودیکھ سکیں ، چٹان اتنی ہٹ گئی کہ انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے نے چچازاد بہن سے زنا سے باز رہنے کا ذکر کیا اورتیسرے نے مزدور کی اجرت کی امانت داری کا ذکر کیا یہاں تک کہ چٹان مکمل طور پر ہٹ گئی اور وہ باہر نکل گئے۔ (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…بخاری، کتاب الاجارۃ ، باب من استاجر اجیرا۔۔۔الخ، ۲/۶۶، الحدیث ۲۲۷۲، و مسلم کتاب الرقاق ، باب قصۃ اصحاب الغار۔۔۔الخ، ص ۱۴۶۵، الحدیث ۱۰۰۔ (۲۷۴۳) ملخصًا
2…المرجع السابق