Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
164 - 676
میں پایا اور جنت میں نہ گیا یا انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کیا۔ (والدین کو حسن سلوک سے راضی نہ کیا) (1)
	طبرانی کی حدیث ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ایک مرتبہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا:’’ آمین آمین آمین‘‘، پھر فرمایا: جبریل آئے اور انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پایا اور اس سے حسن سلوک نہ کیا اور مر گیا تو وہ جہنم میں گیا، اللہ اسے دور کرے، آپ آمین کہیں !  تو میں نے آمین کہی، پھر جبریل نے عرض کی: یارسول اللہ! جس نے ماہِ رمضان کو پایا اور گناہ بخشوائے بغیر مرگیا تو وہ جہنم میں گیا، اللہ نے اسے دور کردیا، آپ آمین کہیں ! تو میں نے آمین کہی، پھر جبریل نے عرض کی: یا رسول اللہ! جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر ہوا اور اس نے آپ پر درود نہ بھیجا اور مرگیا تو وہ جہنم میں گیا، اللہ نے اسے اپنی رحمت سے دور کردیا، کہئے !آمین، تومیں نے آمین کہی۔ (2)
	ابنِ حبان کی روایت کے الفاظ ہیں : جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان سے حسنِ سلوک نہ کیا اور وہ مر گیا تو جہنم میں گیا، اللہ اسے اپنی رحمت سے دور کرے، میں نے آمین کہی۔(3)
	حاکم وغیرہ کی روایت کے آخر میں ہے کہ وہ رحمت سے دور ہوگیا جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کوبڑھاپے کی حالت میں پایا اورانہوں نے اسے جنت میں نہیں پہنچایا، میں نے آمین کہی۔ (4)
	طبرانی کی ایک روایت یہ ہے کہ جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان سے حسنِ سلوک نہ کیا وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوا اور غضب خدا کا مستحق بنا، میں نے آمین کہی۔ (5)
	احمد کی روایت ہے، جس نے کسی غلام مسلمان کو آزاد کیا، وہ جہنم سے آزاد ہوگیا اور جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پایا پھر بھی اس کی بخشش نہ ہوئی، اللہ اسے رحمت سے دور کردے۔ (6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…مسلم، کتاب البروالصلۃ والاداب، باب رغم من أدرک۔۔۔الخ، ص ۱۳۸۱، الحدیث ۹۔ ( ۲۵۵۱)
2…المعجم الکبیر، ۲/۲۴۳، الحدیث ۲۰۲۲ و ۱۲/۶۵، الحدیث ۱۲۵۵۱
3…صحیح ابن حبان، کتاب البروالاحسان، باب حق الوالدین، ۱/۳۱۵، الحدیث ۴۱۰
4…المستدرک للحاکم ، کتاب البروالصلۃ ، باب لعن اللہ العاق۔۔۔الخ ۵/۲۱۳،الحدیث ۷۳۳۸
5…المعجم الکبیر، ۱۲/۶۶،الحدیث ۱۲۵۵۱
6…مسند احمد ، مسند الکوفیین ، حدیث ابی بن مالک  و مالک بن عمرو القشیری ، ۷/۲۸، الحدیث ۱۹۰۵۲ و ۱۹۰۴۹