Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
162 - 676
 آپ نے فرمایا: وہ تیری جنت اور جہنم ہیں ۔ (1)
	ابن ماجہ، نسائی (2)اور حاکم کی روایت ہے: ایک آدمی نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: میرا جہاد کرنے کا ارادہ ہے، آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: تیری ماں زندہ ہے؟ عرض کی: ہاں یا رسول اللہ! (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) آپ نے فرمایا: ماں سے حسنِ سلوک کر، جنت ماں کے قدموں کے پاس ہے۔(3) 
	ایک روایت میں ہے کہ آپ نے پوچھا: تیرے والدین ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں ۔ آپ نے فرمایا: ان کی خدمت کر، جنت ان کے قدموں میں ہے۔ (4)
	ترمذی میں ہے: حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے ایک شخص نے آکر کہا: میری ماں مجھے بیوی کو طلاق دینے کا کہتی ہے، آپ نے فرمایا: میں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے سنا ہے: آپ نے فرمایا: والدین جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تو اسے ضائع کردے اور چاہے تو اس کی حفاظت کر۔ (5)
	ابن حبان کی روایت ہے: ایک آدمی نے حضرتِ ابوالدرداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے شکایت کی کہ میرا باپ پہلے تو مجھے شادی کرنے کو کہتا رہا اور اب کہتا ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدو، آپ نے فرمایا: نہ میں تجھے والدین کی نافرمانی کیلئے کہتا ہوں اور نہ ہی بیوی کو طلاق دینے کے لئے کہتا ہوں ، میں تمہیں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے سنی ہوئی حدیث سناتا ہوں ، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، تیری مرضی ہے،اسکی حفاظت کر یا اسے چھوڑ دے۔ (6)
	سنن اربعہ،(7)  ابن حبان اور ترمذی نے کہا:یہ حدیث حسن صحیح ہے ، حضرتِ عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کہتے ہیں : میرے نکاح میں ایک عورت تھی جسے میں بہت پسند کرتا تھا مگر میرا باپ اسے اچھا نہیں سمجھتا تھا، میرے باپ نے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…ابن ماجہ ، کتاب الادب ، باب برالوالدین ، ۴/۱۸۶، الحدیث  ۳۶۶۲
2…صحاح ستہ میں سے ایک صحیح جو اپنے جامع کے نام پر مشہور ہے، امام نسائی کا نام احمد بن شعیب ہے، متوفی  ۳۰۳ ھ۔
3…سنن النساءی، کتاب الجہاد، باب الرخصۃ فی التخلف لمن لہ والدۃ، ص ۵۰۴، الحدیث ۳۱۰۱
4…المعجم الکبیر، ۲/۲۸۹، الحدیث ۲۲۰۲
5…ترمذی ، کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء من الفصل فی رضا الوالدین، ۳/۳۵۹، الحدیث ۱۹۰۶ 
6…صحیح ابن حبان ، کتاب البر والاحسان، باب حق الوالدین، ۱/۳۲۶،الحدیث ۴۲۶
7… احادیث کے وہ چار مجموعے جو سنن کے نام سے مشہور ہیں یعنی ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی اور سنن ترمذی۔