بَزَّاز کی روایت ہے: نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: میں تمہیں وہ باتیں نہ بتلاؤں جن سے درجات بلند ہوتے ہیں ۔ طبرانی کی روایت میں ہے، میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جس سے اللہ تَعَالٰی عزت دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: ضروربتلائیے یا رسول اللہ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) آپ نے فرمایا: جو تم سے اعراض کرے اُس سے درگزر کرو، جس نے تم پر ظلم کیا اسے معاف کردو، جس نے تم کو محروم کیا اسے عطا کرو اور جس نے تعلقات ختم کئے اس سے تعلقات استوار کرو۔ (1)
ابن ماجہ(2) کی روایت ہے کہ سب اعمال سے جلدی اجر پانے والی چیز احسان اور صلہ رحمی ہے یعنی احسان اور صلہ رحمی سے زیادہ جلد اجر اور کسی عمل کا نہیں ملتا اور سب اعمال سے جلدی عذاب لانے والی چیز ظلم و زیادتی اور قطع رحمی ہے۔ (3)
طبرانی کی روایت ہے: جھوٹ، قطع رحمی اور خیانت کا مرتکب اس لائق ہوتا ہے کہ اللہ تَعَالٰی اسے دنیا میں بھی عذاب دے اور آخرت میں بھی سزا کا مستحق گردانے اور سب اعمال سے جلدی اجر صلہ رحمی کا ملتا ہے اگرچہ اس گھر کے لوگ گنہگار ہوتے ہیں مگر صلہ رحمی کی وجہ سے ان کا مال بھی خوب بڑھتا ہے اور ان کی اولاد بھی بکثرت ہوتی ہے۔(4)
غصہ پینے والے کے لیے جنتی حور
ابوداود شریف کی حدیث میں ہے :’’ جس نے غصے کو ضبط کرلیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بروز ِ قیامت اُس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے لے لے ۔‘‘ (ابوداود، ۴/۔۳۲۵الحدیث۴۷۷۷)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 1…الترغیب والترھیب ، کتاب البروالصلۃ وغیرھما ، الترغیب فی صلۃ الرحم۔۔۔الخ ۳/۲۷۵، الحدیث ۳۸۶۳
2…صحاح ستہ میں سے ایک صحیح کا نام جس کے جامع ’’ ابن ماجہ ‘‘ ہیںاور انہی کے نام سے اس کو سنن ابن ماجہ کہا جاتا ہے، پورا نام محمد بن یزید بن ماجہ ہے، متوفی ۲۷۳ھ۔
3…ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب البغی، ۴/۴۷۴، الحدیث :۴۲۱۲
4…کنزالعمال ، کتاب الاخلاق، الباب الاول۔۔۔الخ ، صلۃ الرحم۔۔۔الخ، ۲/۱۵۰، الجزء الثالث ، الحدیث ۶۹۸۳