صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اس فرمان کا بھی یہی مطلب ہے کہ وَتَصِلْ مَنْ قَطَعَکجورشتہ دار تجھ سے تعلق منقطع کرلے تو اس سے تعلق جوڑ۔ (1)
بزاز، حاکم اور طبرانی کی روایت ہے کہ جس میں یہ تین صفات پائی جائیں گی اس کا حساب اِنتہائی آسان ہوگا، صحابہ نے عرض کی: حضور وہ کونسی ہیں ؟ فرمایا: جو تجھے محروم رکھے تو اسے دیتا رہ، جو تعلق توڑے اس سے تعلق جوڑتا رہ اور جو تجھ پر ظلم کرے تو اسے معاف کرتا رہ، تیرا ٹھکانہ جنت میں ہوگا۔ (2)
احمد کی روایت ہے، حضرتِ عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کا دست اَقدس تھام کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بہترین اعمال بتلائیے۔ آپ نے فرمایا:’’ عقبہ! قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کر، جو تجھے محروم کرے اُسے عطا کر اور جو تجھ پر ظلم کرے اُسے معاف کردے۔‘‘(3)
حاکم کی روایت میں ہے، جو درازی عمر اور فراخی رزق کی آرزو رکھتا ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔(4)
طبرانی کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: لوگو! میں تم کو دنیا اور آخرت کی بہترین عادتیں بتلاتا ہوں ، تم تعلقات منقطع کرنے والے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتے رہو، جو تم کو محروم رکھے، اُسے دیتے رہو اور جو زیادتی کرے اُسے معاف کرتے رہو۔(5)
طبرانی کی روایت ہے: آپ نے فرمایا: قطع تعلق کرنیوالوں سے صلہ رحمی کر، محروم کرنیوالے کو عطا کر اور جس نے تجھے گالیاں دیں اس سے درگزر کر۔ (6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر ، ۲۰/۱۸۸، الحدیث ۴۱۳ والترغیب والترھیب ، کتاب البروالصلۃ وغیرھما، الترھیب فی صلۃ الرحم۔۔۔الخ، ۳/۲۷۴، الحدیث ۳۸۵۸
2…المعجم الاوسط ، ۴/۱۸، الحدیث ۵۰۶۴
3…مسند احمد مسند الشامیین ، حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی، ۶/۱۴۸، الحدیث ۱۷۴۵۷والترغیب والترھیب، کتاب البروالصلۃ وغیرہما، الترغیب فی صلۃ الرحم۔۔۔الخ ،۳/۲۷۴، الحدیث۳۸۶۰
4…المستدرک للحاکم، کتاب البروالصلۃ ، باب احادیث صلۃ الرحم ۵/۲۲۴، الحدیث ۷۳۶۷
5…المعجم الکبیر، ۱۷/۲۶۹، الحدیث ۷۳۹ بتغیر قلیل
6…المعجم الکبیر،۲۰/۱۸۸، الحدیث ۴۱۳