طبرانی کی روایت ہے؛ آپ نے فرمایا: ایک قوم ایسی ہے کہ اللہ تَعَالٰی اس کے شہروں کو آباد کرتا ہے، اس کے مال کو بڑھاتا ہے اور جب سے انہیں پیدا کیا ہے کبھی ناراضگی کی نگاہ سے انہیں نہیں دیکھا۔ پوچھا گیا: وہ کیوں ؟ آپ نے فرمایا: اس قوم کی صلہ رحمی کی وجہ سے۔(1)(یعنی وہ قوم صلہ رحمی کرتی ہے)
صلہ رحمی کے بارے میں چند احادیث مبارکہ:
’’مسند احمد‘‘ کی روایت ہے: جسے نرمی دی گئی اسے دین و دنیا کی بھلائی سے حصہ دیا گیا، اچھی ہمسائیگی اورحسنِ خلق کا نتیجہ شہروں کی آبادی اور عمروں کی درازی ہے۔ (2)
ابوالشیخ، ابن حبان اور بیہقی کی روایت ہے: یارسول اللہ! سب سے بہتر انسان کونسا ہے؟ صحابہ کرام نے سوال کیا: آپ نے فرمایا: رب سے زیادہ ڈرنے والا، زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور نیکیوں کا حکم دینے والا، برائیوں سے روکنے والا۔ (3)
طبرانی کی روایت ہے: حضرت ابوذر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے چند اچھی چیزوں کی وصیت فرمائی ہے اور وہ یہ ہیں : میں اپنے سے اوپر والے کو نہیں بلکہ نیچے والے کو دیکھوں ، میں یتیموں سے محبت رکھوں اور ان سے قریب رہوں ، میں صلہ رحمی کروں اگرچہ رشتہ دار پیٹھ پھیر جائیں ، اللہ تَعَالٰی کے معاملہ میں کسی سے نہ ڈروں ، سچی بات اگرچہ تلخ ہو میں کہتا رہوں ، لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ کثرت سے پڑھتا رہوں کیونکہ یہ جنت کا خزانہ ہے۔(4)
’’صحیحین‘‘ کی روایت ہے: ام المؤمنین حضرتِ میمونہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے دریافت کئے بغیر اپنی لونڈی آزاد کردی۔ جب حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ان کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کردیا ہے؟ آپ نے فرمایا:واقعی؟ عرض کی: جی ہاں ! آپ نے فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر ۱۲/۶۷ ، الحدیث ۱۲۵۵۶
2…مسند احمد، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا، ۹/۵۰۴، الحدیث ۲۵۳۱۴ملخصا
3…شعب الایمان، السادس والخمسون۔۔۔الخ، باب فی صلۃ الارحام،۶/۲۲۰، الحدیث۷۹۵۰ مکرر
4… صحیح ابن حبان، کتاب البروالاحسان ، باب صلۃ الرحم وقطعھا، ۱/۳۳۷، الحدیث ۴۵۰ المساکین مکان الیتمی