Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
156 - 676
 محبت بڑھتی ہے، مال و دولت زیادہ ہوتی ہے اور عمر طویل ہوجاتی ہے۔ (1)
	بزار اور حاکم کی روایت ہے: جو شخص یہ تمنا رکھتا ہو کہ اس کی عمر طویل ہو، رزق میں کشادگی ہو اور بری موت سے بچ جائے وہ اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔ (2)
	حاکم اور بزار کی روایت ہے: فرمانِ نبوی ہے، توراۃ میں مرقوم ہے کہ جو عمر طویل اور زیادتی رزق کا خواہشمند ہو وہ صلہ رحمی کرے۔ (3)
	ابویعلی نے بنوخثعم کے ایک شخص سے روایت کی ہے؛ اس نے کہا: میں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم  کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے، میں نے پوچھا: آپ نے رسولِ خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! میں نے پوچھا: اے نبی اللہ! مجھے بتائیے کونسا عمل اللہ تَعَالٰی کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ ایمان لانا میں نے پوچھا: پھر؟فرمایا: صلہ رحمی! میں نے پوچھا: اور کونسا عمل اللہ تَعَالٰی کو سب سے زیادہ ناپسند ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تَعَالٰی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: قطع رحمی! میں نے پوچھا: پھر؟ آپ نے فرمایا: برائیوں کی ترغیب دینا اور نیکی سے روکنا۔ (4)
	بخاری و مسلم کی روایت ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اونٹنی پر سوار صحابہ کرام کے ساتھ سفر میں جارہے تھے کہ ایک بدوی نے آکر آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑلی اور کہا: حضور! مجھے ایسا عمل بتلائیے جو جنت سے قریب اورجہنم سے دور کردے۔ آپ ٹھہر گئے اور صحابہ کرام کی طرف دیکھ کر فرمایا: یہ شخص ہدایت یاب ہوگیا۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بدوی سے فرمایا کہ اپنا سوال دہراؤ، اس کے دہرانے پر آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تَعَالٰی کو    وَحْدَ   ہٗ لَاشَرِیْک جان کر اس کی عبادت کر، نماز پڑھ، زکوٰۃ دے اور صلہ رحمی کر اور اب میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دے۔ جب بدوی چلاگیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر یہ ان باتوں پر عمل کرتا رہا تو جنت میں جائے گا۔ (5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی تعلیم النسب ، ۳/۳۹۴، الحدیث ۱۹۸۶
2…المستدرک للحاکم، کتاب البر والصلۃ ، باب احادیث صلۃ الرحم،۵/۲۲۲، الحدیث ۷۳۶۲
3…المرجع السابق، الحدیث ۷۳۶۱ ملخصا
4…مسند ابی یعلی، حدیث رجل من خثعم ، ۶/۵۵،الحدیث ۶۸۰۴
5…مسلم،کتاب الایمان، باب بیان الایمان الذی یدخل۔۔۔الخ، ص ۲۶، الحدیث ۱۴۔ (۱۳) و ۱۲۔ (۱۳)