Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
155 - 676
	بَزَّار نے روایت کی ہے: رحم (قرابت و رشتہ داری) عرشِ خدا سے چمٹی ہوئی عرض کرتی ہے: اے اللہ! جس نے مجھے مِلایا تو اسے مِلا، جس نے مجھے کاٹا تواس سے تعلق منقطع فرما! رب تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا نام اپنے نام رحمن اور رحیم سے مشتق کیا ہے جس نے تجھے مِلایا میں اسے اپنی رحمت سے مِلاؤں گا، جس نے تجھ سے تعلق منقطع کیا میں اس سے رحمت کو منقطع کرلوں گا۔(1)
	بَزَّار کی روایت ہے: تین چیزیں عرشِ خدا سے لٹکی ہوئی ہیں ، قرابت کہتی ہے: اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہوں ، کبھی تجھ سے جدا نہ ہوں گی، امانت کہتی ہے: اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہوں ، میں تیری رحمت سے کبھی جدا نہ ہوں گی، نعمت کہتی ہے: اے اللہ! میں تیری رحمت سے جدائی نہیں چاہتی، میرا انکار نہ کیا جائے۔ (2)
	 بیہقی کی روایت ہے: خلت یا سرشت عرش کے دروازوں سے مُعلَّق ہے جبکہ رحم میں تشکیک واقع ہوجائے اور گناہوں پر عمل بڑھ جائے اور احکامِ الٰہیہ پر عمل نہ کرنے پر جرأت پیدا ہوجائے تو اللہ تَعَالٰی سرشت کو بھیجتا ہے جو اس کے قلب پر حاوی ہوجاتی ہے اور اس کے بعد اس کو گناہوں کا شعور باقی نہیں رہتا۔ (3)
	صحیحین میں ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، صلہ رحمی کرے اور اچھی بات کرے یا چپ رہے۔ ایک اور روایت ہے: جو شخص طویل عمر اور فراخی رزق کی تمنا رکھتا ہے اسے چاہئے وہ صلہ رحمی کرے۔ (4)
	حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو فرماتے سنا :’’جو شخص فراخی رزق اور عمر طویل کو پسند کرتا ہے وہ صلہ رحمی کرے۔ (5) 
	مزید فرمایا: اپنا نسب یاد کرو تاکہ رشتہ داروں کو پہچان سکو، اس لئے کہ رشتہ داروں سے میل مِلاپ میں خاندان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البحر الزخار المعروف بمسند البزار،  ۱۳/۱۱۶، الحدیث ۶۴۹۵ 
2…البحرالزخار المعروف بمسند البزار، حدیث ثوبان ، ۱۰/۱۱۷، الحدیث : ۴۱۸۱
3…شعب الایمان، السابع والاربعون۔۔۔الخ، فصل فی الطبع۔۔۔الخ،۵/۴۴۳، الحدیث ۷۲۱۳۔۷۲۱۴
4…بخاری، کتاب الادب، باب اکرام الضیف۔۔۔الخ، ۴/۱۳۶،الحدیث ۶۱۳۸، وباب من بسط لہ۔۔۔الخ، ص ۹۷، الحدیث ۵۹۸۶
5…بخاری، کتاب الادب، باب من بسط لہ۔۔۔الخ ،۴/۹۷،الحدیث ۵۹۸۵