Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
154 - 676
 گیا جس سے اُس کا دوسال پرانا جھگڑا تھا، جب دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوگئے تو اس جوان سے خالہ نے کہا: تم جاکر اس کا سبب پوچھو، آخر ایسا کیوں ہوا؟ حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کہا کہ میں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: جس قوم میں قاطِع رحم ہو، اس پر اللہ کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا۔(1)
	طبرانی میں اَعمش کی روایت ہے: حضرتِ ابن مسعود  رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک صبح محفل میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: میں قاطِع رحم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ یہاں سے اٹھ جائے تاکہ ہم اللہ تَعَالٰی سے مغفرت کی دعا کریں کیونکہ قاطِع رحم پر آسمان کے دروازے بند رہتے ہیں ۔ (2)(اگر وہ یہاں موجود رہے گا تو ہماری دعا قبول نہیں ہوگی)
	صحیحین میں ہے: قرابت اور رشتہ داری عرشِ خدا سے معلق ہے اور کہتی ہے: جس نے مجھے ملایا اللہ اسے ملائے اور جس نے مجھ سے قطع تعلق کیا اللہ تَعَالٰی اس سے قطع تعلق کرے۔(3)
	حضرتِ عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں : میں نے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے سنا آپ فرمارہے تھے: اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: میں اللہ ہوں ، میں رحمن ہوں ، میں نے رحم کو پیدا کیا اور اسے اپنے نام سے مشتق کیا، جس نے صلہ رحمی کی میں اسے اپنی رحمت سے ملاؤں گا اور جس نے قطع رحمی کی میں اسے اپنی رحمت سے دور کردوں گا۔ (4)
	مسند احمد میں روایت ہے کہ سب سے بڑا سود مسلمان کے مال کو ناحق کھانا ہے اور قرابت و صلہ رحمی اللہ تَعَالٰی کے نام کی ایک شاخ ہے، جس نے صلہ رحمی نہ کی اللہ تَعَالٰی اس پر جنت حرام کردیتا ہے۔ (5)
	صحیح ابن حبان میں ہے: رحم ربِ ذوالجلال کی ایک عطا ہے، رحم نے اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں عرض کی: اے رب! مجھ پر ظلم ہوا، مجھے بُرا کہا گیا، مجھے قطع کیاگیا، رب تعالیٰ نے فرمایا: جو تجھے ملائے گا میں اسے اپنی رحمت سے ملاؤں گا، جو تجھے کاٹے گا میں اسے اپنی رحمت سے دور کردوں گا۔(6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الادب المفرد، ص ۲۶، الحدیث ۶۱۔۶۳ 
2…المعجم الکبیر، ۹/۱۵۸، الحدیث ۸۷۹۳
3…مسلم ، کتاب البر و الصلۃ و الاداب، باب صلۃ الرحم۔۔۔الخ، ص ۱۳۸۳، الحدیث ۱۷۔ (۲۵۵۵)
4…ترمذی ، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی قطیعۃ الرحم ، ۳/۳۶۳ ، الحدیث  ۱۹۱۴
5…مسند احمد، مسند سعید بن زید۔۔۔الخ ، ۱/۴۰۲، الحدیث۱۶۵۱
6…صحیح ابن حبان ، کتاب البر والاحسان ، باب صلۃ الرحم وقطعھا، ۱/۳۳۵، الحدیث ۴۴۵ بالتقدیم و التاخیر