Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
153 - 676
	ابن حبان سے مروی ہے: تین آدمی جنت میں نہیں جائیں گے: شرابی، قاطِع رحم، جادوگر۔  (1)
	مسند احمد، ابن ابی الدنیا اور بیہقی سے مروی ہے: اس اُمت کے کچھ لوگ کھانے پینے اور لہوولعب میں راتیں گزاریں گے، جب صبح ہوگی تو ان کی صورتیں مسخ ہوجائیں گی،انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، صبح کو لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: فلاں خاندان زمین میں دھنس گیا ہے، فلاں معزز اپنے گھر کے ساتھ زمین میں غرق ہوگیا ہے، ان کی شراب نوشی، سودخوری، قطع رحمی، ناچ گانے پر فریفتگی اور ریشمی لباس پہننے کی وجہ سے ان پر قومِ لوط کی طرح پتھروں کی بارش ہوگی اور قومِ عاد کی طرح ان پر ہلاکت خیز آندھیاں بھیجی جائینگی جن سے وہ اپنے قبائل سمیت ہلاک ہوجائیں گے۔(2)
	طبرانی نے اوسط میں حضرتِ جابر رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت کی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا شانۂ نبوت سے باہر تشریف لائے ، ہم لوگ اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے ہمیں دیکھ کر فرمایا: اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور صلہ رحمی کرو کیونکہ صلہ رحمی کا ثواب بہت جلد ملتا ہے، ظلم و زیادتی سے بچو کیونکہ اس کی گرفت بہت جلد ہوتی ہے، والدین کی نافرمانی سے بچو، جنت کی خوشبو ہزار سال کے فاصلہ سے آئیگی مگر والدین کا نافرمان اس سے محروم رہے گا، قرابت نہ رکھنے والا، بوڑھا زانی اور تکبر سے اَزار گھسیٹنے والا، اس سے محروم رہیں گے۔(3)
	اصبہانی سے مروی ہے: ہم رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: قاطع رحم ہماری مجلس میں نہ بیٹھے، مجلس میں سے ایک جوان اٹھ کر خالہ کے ہاں چلا گیا، ان کے درمیان کوئی تنازعہ تھا جس کی اس نے معافی مانگی دونوں نے ایک دوسرے کو معاف کردیا اور وہ دوبارہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی مجلس میں بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اس قوم پر رحمتِ خداوندی کا نزول نہیں ہوتا جس میں قاطِع رحم موجود ہو۔(4)
	اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں مروی ہے: حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی احادیث سنارہے تھے۔ آپ نے کہا کہ ہر قاطع رحم ہماری محفل سے اٹھ جائے۔ ایک جوان اٹھ کر اپنی خالہ کے ہاں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح ابن حبان، کتاب الاشربۃ، باب اداب الشرب، فصل فی الاشربۃ، ۵/۳۶۶، الجزء السابع، الحدیث ۵۳۲۲
2…شعب الایمان، التاسع والثلاثون۔۔۔الخ، باب فی المطاعم والمشارب، ۵/۱۶ الحدیث ۵۶۱۴
3…المجعم الاوسط ، ۴/۱۸۷، الحدیث ۵۶۶۴
4…تاریخ مدینہ دمشق، ۲۰/۱۶۶