Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
152 - 676
 ہیں ان کے لیے لعنت خداوندی اور بڑا ٹھکانہ ہے۔  (1)
نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ارشادات:
	صحیحین میں حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جب اللہ تَعَالٰی مخلوق کی پیدائش سے فارغ ہوگیا تو قرابت نے کھڑے ہوکر عرض کیا: میں تجھ سے قطع رحمی کی پناہ چاہتی ہوں ، رب تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ جس نے تجھ سے تعلق جوڑا، میں اس سے تعلق جوڑوں گا اور جس نے تجھ سے قطع کرلیا میں اسے قطع کردوں گا اس نے کہا: میں راضی ہوں ۔ پھر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فَہَلْ عَسَیْتُمْ(الآیۃ) پڑھی۔ (2)
	حضرتِ ابی بکررَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ بغاوت اور قطع رحمی دو ایسے گناہ ہیں جن پر دنیا اور آخرت میں عذاب دیا جاتا ہے۔  (3)
	صحیحین میں ہے کہ قطعِ رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔(4)
	مسندِ احمد میں ہے: انسانوں کے اعمال ہر جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں مگر قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔(5)
	بیہقی سے روایت ہے:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: جبریل عَلَیْہِ السَّلَام پندرہویں شعبان کی رات کو میرے پاس آئے اور کہا: آج کی رات اللہ تَعَالٰی بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر گنہگاروں کو بخش دیتا ہے مگر مشرک، کینہ پرور، قاطِع رحم، تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹ کرچلنے والا، والدین کا نافرمان اور شرابی کو نہیں بخشا جاتا۔(6)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور اُن کا نصیبہ بُرا گھر ۔ (پ۱۳،الرعد:۲۵) 
2…مسلم، کتاب البر والصلۃ والاٰداب ، باب صلۃ الرحم۔۔۔الخ، ص ۱۳۸۳، الحدیث ۱۶۔ (۲۵۵۴) 
3…ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ،  باب۵۷، ۴/۲۲۹، الحدیث ۲۵۱۹ عن ابی بکرہ
4…بخاری، کتاب الادب ، باب اثم القاطع، ۴/۹۷، الحدیث ۵۹۸۴
5…مسند احمد، مسند ابی ہریرۃ، ۳/۵۳۲، الحدیث ۱۰۲۷۶
6…شعب الایمان، الباب الثالث والعشرون،باب فی الصیام۔۔۔الخ، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان۔۔۔الخ، ۳/۳۸۴، الحدیث ۳۸۳۷