Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
150 - 676
یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ اللہ  کا حرم ہے چنانچہ چالیس دن یہ پتھر حرم کے باہر زمین و آسمان کے درمیان معلق رہا یہاں تک کہ وہ شخص تجارت سے فارغ ہوکر مکہ معظمہ سے باہر نکلا اور وہ پتھر اسے جالگا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ حضرتِ لوط عَلَیْہِ السَّلَام اپنے تمام اہلِ خانہ کو لے کر بستی سے نکل گئے، اور فرمایا: کوئی مڑ کر نہ دیکھے۔ جب قوم پر عذاب نازل ہوا تو ان کی بیوی نے آوازیں سنکر پیچھے دیکھا اور کہا: ہائے میری قوم! جس کی پاداش میں اسے ایک پتھر لگا اور وہ ہلاک ہوگئی۔ مجاہد کہتے ہیں جب صبح قریب ہوئی تو حضرتِ جبریل نے ان بستیوں کو پروں پر اٹھالیا اور اتنی بلندی تک لے گئے کہ آسمان کے فرشتوں نے ان کے کتوں کو بھونکتا اور مرغوں کی بانگوں کو سن لیا، اس وقت یہ بستیاں الٹ دی گئیں ، سب سے پہلے ان کے مکانات گرے، پھر وہ خود اوندھے منہ زمین پر آرہے اور ان پر پتھر برسائے گئے۔
	کہتے ہیں کہ یہ پانچ شہر تھے جن میں سب سے بڑا سدوم کا شہر تھا، ان شہروں کی آبادی چار لاکھ تھی، اللہ تَعَالٰی نے انہیں سورۂ براء ۃ میں مؤتفکات کے نام سے یاد کیا ہے۔
مَذاق اُڑانے کا عذاب 
جب کسی مسلمان کا مذاق اُرانے کو جی  چاہے   تو خدا رااس روایت پر غور فرمالیا کیجئےجس میں سرکار ِ نامندار ، مَدینے  کے تاجدار، رسولوں  کے سالا ر، نبیوں  کے سردار ، شہنشاہِ اَ برار ، سرکارِ والاتبار ہم غریبوں  کے غمسار ،ہم  بے کسوں کے مدد گار، صاحب پسینہ  خشبودار، شفیع رو زِ شمار  جناب احمد مختار صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان  ہے ’’قیامت کے  روز لوگوں کا  مذاق اڑانے  والے  کے سامنے  جنت کا  ایک دروازہ کھولا جائے گا  اور  کہاجائے گا  کہ آؤ ! آؤ! تو وہ بہت  ہی بے چینی  اور غم میں ڈوبا ہوا اْس  دروازے  کے سامنے  آئے گا مگر جیسے ہی  دروازے کے پاس  پہنچے گا وہ دروازہ بند ہو جائے گا۔پھر جنت کا ایک دوسرا دروازہ کھلے گا اور  اس کو پکارا جائے گا کے آو!چنانچہ  یہ بے چینی  اور رنج و غم  میں ڈوبا ہوا اُس  دروازے کے پاس جائے گا  تو وہ دروازہ بھی بند ہوجائے گا۔ اسی طرح  اس کیساتھ  مُعامَلہ  ہوتا رہے گا  یہاں تک  کہ جب  دروازہ  کھلے گا  اور پکار پڑے گی  تو وہ نہیں جائے گا ۔‘‘(موسوعۃ ابن  ابی  الدنیا، کتاب الصمت ، ۷/۱۸۳ ، رقم ۲۸۷)