گھر میں گھس گئے اور دروازہ بند کر لیا، کچھ دیر بعد پوچھا: فتنہ چلاگیا یا نہیں ؟ لوگوں نے کہا: چلا گیا۔ تب آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: فرمانِ نبوی ہے: ان کی طرف دیکھنا، گفتگو کرنا اور ان کے پاس بیٹھنا حرام ہے۔ (1)
حضرت قاضی امام رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ کا قول ہے: میں نے بعض مشائخ سے سنا ہے کہ عورت کے ساتھ ایک شیطان اور حسین لڑ کے کے ساتھ اَٹھارہ شیطان ہوتے ہیں ۔
روایت ہے کہ جس نے شہوت کے ساتھ لڑ کے کو بوسہ دیا وہ پانچ سو سال جہنم میں جلے گا (2)اور جس نے کسی عورت کا بوسہ لیا اس نے گویا ستر باکرہ خواتین کے ساتھ زنا کیا اور جس نے کسی باکرہ عورت سے زنا کیا اس نے گویا ستر ہزار شادی شدہ عورتوں سے زنا کیا۔
’’رونق التفاسیر‘‘ میں کلبی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ سے منقول ہے: سب سے پہلے لواطت ابلیس نے شروع کی، وہ لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم میں ایک حسین و جمیل لڑ کے کی صورت میں آیا اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا یہاں تک کہ لواطت ان لوگوں کی عادت بن گئی، جو بھی مسافر آتا وہ اس سے بدفعلی کرتے۔ حضرتِ لوط عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں اس فعلِ بد سے روکا اللہ کی طرف بلایا اور عذابِ خداوندی سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے: اگر تم سچے ہو تو جاؤ عذاب لے آؤ! حضرتِ لوط عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ رب العزت سے دعا مانگی: جس کے جواب میں ان پر پتھروں کی بارش ہوئی، ہر پتھر پر ایک آدمی کا نام لکھا ہوا تھا اور وہ اس آدمی کو آکر لگا، اللہ تَعَالٰی کا فرمان ہے:
مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ ؕ (3)
قومِ لوط کے ایک تاجر کا واقعہ:
حضرتِ لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کا ایک تاجر مکہ میں بغرض تجارت آیا اس کے نام کا پتھر وہیں پہنچ گیا مگر فرشتوں نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بریقۃ محمودیۃ فی شرح طریقۃ محمدیۃ ، ۴/۶۶
2… بعینہ ان الفاظ کے ساتھ ہمیں حدیث نہیں ملی البتہ ’’ اللٓا لی المصنوعۃ ‘‘ کی ایک روایت میں پانچ سو سال کی جگہ ہزار سال کے عذاب کا تذکرہ ہے، جس میں الفاظ یوں ہیں : من قبل غلاما بشہوۃ عذبہ اللہ فی النار ألف سنۃ (اللٓا لی المصنوعۃ للسیوطی، ۲/۱۶۸) اور امام سیوطی نے اسے موضوع کہاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
3…ترجمۂکنزالایمان:جو نشان کئے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں۔ (پ۱۲، ھود: ۸۳)