باب22
زِنا
فرمانِ الٰہی ہے:
وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ (1) وہ حرام اور بد کاریوں سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔
ایک اور آیت میں ارشادِ ربانی ہے:
وَلَاتَقْرَبُوْاالْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (2) یعنی چھوٹے بڑے ظاہر پوشیدہ کسی بھی گنا ہ کے قریب مت جاؤ۔
یعنی نہ ہی کسی بڑی بے حیائی کا اِرتکاب کرو جیسا کہ زنا اور نہ چھوٹی کا جیسا کہ غیر محرم کو چھونا، دیکھنا وغیرہ کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشادِ مبارک ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں ، پیر زنا کرتے ہیں اور آنکھیں زنا کرتی ہیں ، فرمانِ الٰہی ہے:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْ جَہُمْط ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہْمْ (3)مومنوں سے کہہ دیجئے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔
اللہ تَعَالٰی نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حرام کی طرف نہ دیکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو اِرتکابِ حرام سے محفوظ رکھیں ۔
اللہ تَعَالٰی نے متعدد آیات میں زِنا کی حرمت بیان فرمائی ہے، ایک جگہ ارشادِ ربانی ہے:
وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا (4) جو شخص زنا کرتا ہے اسے اثام میں ڈالا جائے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔(پ۱۸،المؤمنون:۵)
2…ترجمۂکنزالایمان: اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی۔ (پ۸،الانعام:۱۵۱)
3…ترجمۂکنزالایمان:مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے۔ (پ۱۸،النور:۳۰)
4…ترجمۂکنزالایمان:اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا۔ (پ۱۹،الفرقان:۶۸)