اللہُ عَنْہ کی خدمت میں آئے اور اُنہیں سارا ماجرا سنا کردریافت کیا کہ یہودونصارٰی مرتے ہیں مگر ان کے ساتھ کبھی ایسا اتفاق نہیں دیکھا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: اِس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دائمی عذاب میں ہیں مگر اللہ تَعَالٰی تمہیں عبرت حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کی یہ حالتیں دکھاتا ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے:
فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِہٖۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَمَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿۱۰۴﴾) 1)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: زکوٰۃ نہ دینے والے اللہ تَعَالٰی کے یہاں یہود و نصاریٰ کی طرح ہیں، عُشر نہ دینے والے مجوس کی طرح اور جو لوگ زکوٰۃ اور عشر نہ دیں نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماور فرشتوں کی زبان سے ملعون قرار پائے اور ان کی گواہی نامقبول ہے۔(2)
اور فرمایا: اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے زکوٰۃ اور عشر ادا کیا اور اس کیلئے بھی خوشخبری ہے جس پر قیامت اور زکوٰۃ کا عذاب نہیں ہے۔ جس شخص نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی اللہ تَعَالٰی نے اس سے عذاب قبر کو اٹھالیا، اس پر جہنم کو حرام کردیا، اس کے لئے بغیر حساب کے جنت واجب کردی اور اسے قیامت کے دن پیاس نہیں لگے گی۔(3)
تین سود رجات کی بلندی
حدیث مبارکہ میں ہے:’’جس نے مصیبت پر صبر کیا یہاں تک کے اس(مصیبت) کو اچھے صبر کے ساتھ لوٹا دیا،اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰیاس کے لئے تین سو درجات لکھے گا ، ہر ایک درجہ کے مابین (یعنی درمیان) زمین وآسمان کا فا صِلہ ہو گا۔‘‘ ( الجامع الصغیر للسیوطی ، ص ۳۱۷ ، الحدیث ۵۱۳۷)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:تو جس نے دیکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا تو اپنے بُرے کو اور میں تم پر نگہبان نہیں۔ (پ۷ ، الانعام : ۱۰۴)
2…
3…