Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
145 - 676
 کے بھائی کے پاس چلیں ، محمد بن یوسف الفریابی کہتے ہیں : ہم آپ کے ساتھ روانہ ہوگئے اور اس کے بھائی کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ بہت آہ و بکا کررہا تھا۔ ہم نے اسے کافی تسلیاں دیں ، صبر کی تلقین کی مگر اس کی گریہ وزاری برابر جاری رہی۔ ہم نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہر شخص کو آخر مرجانا ہے؟ وہ کہنے لگا: یہ صحیح ہے مگر میں اپنے بھائی کے عذاب پر روتا ہوں ۔ ہم نے پوچھا: کیا اللہ تَعَالٰی نے تمہیں غیب سے تمہارے بھائی کے عذاب کی خبردی ہے؟ کہنے لگا: نہیں بلکہ ہوا یوں کہ جب سب لوگ میرے بھائی کو دفن کر کے چل دیئے تو میں وہیں بیٹھا رہا، میں نے اس کی قبر سے آواز سنی وہ کہہ رہا تھا آہ! وہ مجھے تنہا چھوڑ گئے اور میں عذاب میں مبتلا ہوں ، میری نمازیں اور روزے کہاں گئے؟ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا میں نے اس کی قبر کھودنا شروع کردی تاکہ دیکھوں میرا بھائی کس حال میں ہے؟ جونہی قبر کھلی! میں نے دیکھا اس کی قبر میں آگ دہک رہی ہے اور اس کی گردن میں آگ کا طوق پڑا ہوا ہے مگر میں محبت میں دیوانہ وار آگے بڑھا اور اس طوق کو اتارنا چاہا، جس کو ہاتھ لگاتے ہی میرا یہ ہاتھ انگلیوں سمیت جل گیا ہے۔
	ہم نے دیکھا واقعی اس کا ہاتھ بالکل سیاہ ہوچکا تھا، اس نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: میں نے اس کی قبر پر مٹی ڈالی اور واپس لوٹ آیا۔ اب اگر میں نہ روؤں تو اور کون روئے گا؟ ہم نے پوچھا: تیرے بھائی کا کوئی ایسا کام بھی تھا جس کے باعث اسے یہ سزا ملی؟ اس نے کہا: وہ اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا تھا۔ ہم بے ساختہ پکار اٹھے کہ یہ اس فرمانِ الٰہی کی تصدیق ہے:
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ (1)
اور جو لوگ ہمارے فضل سے عطا کردہ مال میں بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے لیے بہتر نہ سمجھیں بلکہ یہ ان کے لیے مصیبت ہے عنقریب قیامت کے دن انہیں طوق پہنایا جائے گا۔
تیرے بھائی کو قیامت سے پہلے ہی عذاب دے دیا گیا۔
	حضرت محمد بن یوسف الفریابی کہتے ہیں :ہم وہاں سے رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے صحابی حضرتِ ابوذر رَضِیَ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔ (پ۴، اٰلِ عمران:۱۸۰)