قیامت کے دن ’’ فقرا ‘‘ اَغنیا کے لئے باعث ہلاکت ہوں گے
فرمانِ نبوی ہے کہ قیامت کے دن فقراء ، اَغنیا کے لئے ہلاکت کا سبب بنیں گے، جب وہ اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں عرض کریں گے: اے اللہ! انہوں نے ہمارے حقوق غصب کر کے ہم پر ظلم کیا تھا۔ رب فرمائے گا :مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! آج میں تمہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دوں گا اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردوں گا، پھر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے یہ آیت پڑھی:
وَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوۡمٌ ﴿۲۴﴾۪ۙلِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ ﴿۲۵﴾۪ۙ (1)
اغنیا کے مال میں سائل اور فقیر کا ایک معین حق ہے۔
فرمانِ نبوی ہے: معراج کی رات میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جنہوں نے آگے پیچھے چیتھڑے لگائے ہوئے تھے اور جہنم کا تھوہڑ، ایلوا اور بدبو دار گھاس جانوروں کی طرح کھا رہے تھے۔میں نے پوچھا :جبریل یہ کون ہیں ؟ جبریل نے عرض کی: حضور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کا صدقہ (زکوٰۃ) نہیں دیتے تھے۔ اللہ تَعَالٰی نے نہیں بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔(2)
عجیب و غریب حکایت:
تابعین رَضِیَ اللہ عَنْہمْ کی ایک جماعت حضرتِ ابی سنان رَضِیَ اللہ ُعَنْہ کی زیارت کے لئے آئی، جب ان لوگوں کو وہاں بیٹھے کچھ دیر ہوگئی تو حضرت ابی سنان رَضِیَ اللہ عَنْہ نے کہا: ہمارا ایک ہمسایہ فوت ہوگیا ہے، چلو تعزیت کے لئے اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
=دردناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔ (پ۱۰، التوبۃ : ۳۴،۳۵)
1…ترجمۂکنزالایمان:اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے۔ (پ۲۹،المعارج:۲۴،۲۵) …المعجم الاوسط، ۳/۳۴۹، الحدیث ۴۸۱۳
2…الزواجر عن اقتراف الکبائر ، الکبیرۃ السابعۃ والثامنۃ والعشرون بعد المائۃ، ترک الزکاۃ، ۱/۳۲۵ والتذکرۃ للقرطبی، باب مایکون منہ عذاب القبر۔۔۔الخ ، فصل قال علماؤنا ، باب منہ، ص۱۳۴