غیبت زنا سے بھی بدتر ہے:
رسول مقبول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کو غیبت سے بچاؤ، یہ زنا سے بھی بدتر ہے، پوچھا گیا: یہ زنا سے کیسے بدتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: آدمی زنا کر کے توبہ کرلیتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے مگر غیبت کرنے والے کو جب تک وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہو، معاف نہ کرے، اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔(1)
لہٰذا ہر غیبت کرنیوالے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تَعَالٰی کے حضور شرمندہ ہوکر توبہ کرے تاکہ اللہ کے کرم سے فیض یاب ہوکر پھر اس شخص سے معذرت کرے جس کی اس نے غیبت کی تھی تاکہ غیبت کے اندھیاروں سے رہائی حاصل ہو۔
فرمانِ نبوی ہے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کرتا ہے اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اُس کا منہ دُبر کی طرف پھیر دے گا، (2)
اِس لئے ہر غیبت کرنیوالے پر لازم ہے کہ وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے اللہ تَعَالٰی سے معافی مانگ لے اور جس شخص کی غیبت کی ہے اس تک بات پہنچنے سے قبل ہی رجوع کرلے کیونکہ غیبت کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے جس کی غیبت کی گئی ہو ، اگر توبہ کرلی جائے تو توبہ قبول ہو جاتی ہے مگر جب بات اس شخص تک پہنچ جائے تو جب تک وہ خود معاف نہ کرے توبہ سے گناہ معاف نہیں ہوتا اور اسی طرح شادی شدہ عورت سے زنا کا مسئلہ ہے، جب تک اس کا شوہر معاف نہ کرے، توبہ قبول نہیں ہوگی، رہا نماز ، روزہ، حج اور زکوٰۃ کا معاملہ تو قضا ادا کئے بغیر ان کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔واللہ اعلم
٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط للطبرانی، ۵/۶۳، الحدیث۶۵۹۰ و جامع الاحادیث ، ۳/۳۹۰ ، الحدیث۹۳۱۰
2…کنز العمال ،۳/۲۳۵، الحدیث ۸۰۳۶