کھاتا ہے قیامت کے دن اس کے سامنے مردہ بھائی کا گوشت رکھا جائے گا اور کہا جائے گا: جسے تو زندہ کھاتا تھا اب مردہ کو بھی کھا اور وہ اسے کھائے گا ۔‘‘پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :
اَ یُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْ کُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا (1)
کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔
غیبت کی بدبو اب کیوں محسوس نہیں ہوتی:
حضرتِ جابر بن عبداللہ انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے چونکہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کے عہد مبارک میں غیبت بہت کم کی جاتی تھی اس لئے اس کی بدبو آتی تھی مگر اب غیبت اتنی عام ہوگئی کہ مشّام اس کی بدبو کے عادی ہوگئے ہیں کہ وہ اِسے محسوس ہی نہیں کرسکتے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص چمڑے رنگنے والوں کے گھر میں داخل ہو تو وہ اس کی بدبو سے ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہر س کے گا مگر وہ لوگ وہیں کھاتے پیتے ہیں اور انہیں بو محسوس ہی نہیں ہوتی کیونکہ ان کے مشّام (ناک) اس قسم کی بو کے عادی ہوچ کے ہیں اور یہی حال اب اس غیبت کی بدبو کا ہے۔
حضرتِ کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہے، جو شخص غیبت سے توبہ کر کے مرا وہ جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا اور جو غیبت کرتے کرتے مر گیا وہ جہنم میں سب سے پہلے جائے گا، فرمانِ الٰہی ہے:
وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣۙ﴿۱﴾ (2) ہر پیٹھ پیچھے برائیاں کرنے والے اور تیری موجودگی میں برائیاں کرنے والے کے لیے جہنم کا گڑھا ہے۔
یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمانوں کے سامنے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور مسلمانوں کی برائیاں کیا کرتا تھا، اس آیت کا شانِ نزول تو خاص ہے مگر اس کی وعید عام ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے۔ (پ۲۶،الحجرات:۱۲) …المعجم الاوسط،۱/۴۵۰،الحدیث ۱۶۵۶، لیس ذکر الآیۃ
2…ترجمۂکنزالایمان:خرابی ہے اس کے لئے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے ۔(پ۳۰،الھُمزۃ:۱)