Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
140 - 676
 ہوتے وقت قسم کھائی کہ اگر میں نے مکہ مکرمہ کو جاتے یا گھرواپس آتے ہوئے کسی کی غیبت کی تو یہ دودینار اللہ کے نام پر صدقہ کر دوں گا۔ آپ مکہ شریف تک گئے اور گھر واپس آئے مگر دینار اسی طرح ان کی جیب میں محفوظ رہے، ان سے غیبت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: میں ایک مرتبہ کی غیبت کو سو مرتبہ کے زنا سے بدترین سمجھتا ہوں ۔ 
	حضرت ابوحفص الکبیر رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ  کا قول ہے کہ میں کسی انسان کی غیبت کرنے کو ماہ رمضان کے روزے نہ رکھنے سے بدتر سمجھتا ہوں ، پھر فرمایا: جس نے کسی عالم کی غیبت کی تو قیامت کے دن اس کے چہرے پر لکھا ہوا ہوگا، یہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے: معراج کی رات میرا ایسی قوم پر گزر ہوا جو اپنے ناخنوں سے اپنے چہروں کو چھیل رہے تھے اور مردار کھارہے تھے، میں نے جبریل امین سے پوچھا: کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ جبریل نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کا گوشت کھاتے رہے ہیں ۔ (1)(یعنی غیبت کرتے رہے ہیں )
	حضرتِ حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا قول ہے: ربِ ذوالجلال کی قسم! غیبت لقمہ کے پیٹ میں پہنچنے سے بھی جلد تر، مومن کے دین میں رخنہ ڈال دیتی ہے۔
	حضرتِ سلمان فارسی، حضرتِ ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کے ہم سفر تھے اور ان کے لئے کھانا تیار کرتے تھے، ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ حضرتِ سلمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کھانے کی کوئی چیز نہ پائی جسے تیار کر کے وہ کھاسکیں ، حضرتِ ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہ عَنْہما نے انہیں حضور کی خدمت میں بھیجا کہ جاکر دیکھو وہاں کچھ موجود ہے؟ انہوں نے واپس آکر بتلایا کہ وہاں کچھ نہیں ہے، اس پر انھوں نے کہا: اگر تم فلاں کنوئیں کی طرف جاتے تو اس کا پانی بھی خشک ہوجاتا، تب یہ آیت نازل ہوئی:
وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا (2)		یعنی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔
	حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ جو دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابوداود،کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، ۴/۳۵۳ ، الحدیث ۴۸۷۸
2… ترجمۂکنزالایمان:اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو ۔ (پ۲۶،الحجرات:۱۲)