Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
139 - 676
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔(1)
حکمت:
	  اللہ تَعَالٰی نے تمام جانوروں کے منہ میں زبان پیدا کی ہے مگر مچھلی کو زبان نہیں دی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حکم خداوندی سے فرشتوں نے آدم عَلَیْہِ السَّلَامکو سجدہ کیا اور ابلیس، رجیم ہوکر مسخ شدہ صورت میں زمین پر پھینک دیا گیا تو وہ سمندروں کی طرف گیا تو اسے سب سے پہلے مچھلی نظر آئی جسے اس نے آدم عَلَیْہِ السَّلَامکی تخلیق کا قصہ سنایا اور یہ بھی بتلایا کہ وہ بحروبر کے جانوروں کا شکار کرے گا، تو مچھلی نے تمام دریائی جانوروں تک حضرت آدم کی کہانی کہہ سنائی بایں وجہ اسے اللہ تَعَالٰی نے زبان کے شرف سے محروم کردیا۔
چغل خور کی سزا:
	حضرت عمر وبن دینار رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کہتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں ایک شخص رہتا تھا جس کی بہن مدینہ کے نواح میں رہتی تھی، وہ بیمار ہوگئی تو یہ شخص اس کی تیمارداری میں لگارہا لیکن وہ مرگئی تو اس شخص نے اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا، آخر جب اسے دفن کر کے واپس آیا تو اسے یاد آیا کہ وہ رقم کی ایک تھیلی قبر میں بھول آیا ہے۔اس نے اپنے ایک دوست سے مدد طلب کی دونوں نے جاکر اس کی قبر کھود کر تھیلی نکال لی۔ تو اس نے دوست سے کہا: ذرا ہٹنا! میں دیکھوں تو سہی میری بہن کس حال میں ہے؟ اس نے لحد میں جھانک کردیکھا تو وہ آگ سے بھڑک رہی تھی، وہ واپس چپ چاپ چلا آیا اور ماں سے پوچھا: میری بہن میں کیا کوئی خراب عادت تھی؟ ماں نے کہا: تیری بہن کی عادت تھی وہ ہمسایوں کے دروازوں سے کان لگا کر اُن کی باتیں سنتی تھی اور چغلخوری کیا کرتی تھی۔ پس اس شخص کو معلوم ہوگیا کہ عذاب کا سبب کیا ہے، پس جو شخص عذاب قبر سے بچنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ غیبت اور چغلخوری سے پرہیز کرے۔
حضرت ابو اللیث بخاری کا ایک واقعہ:
	حضرت ابواللیث بخاری رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ حج کے لئے گھر سے روانہ ہوئے اور دودینار جیب میں ڈال لئے، روانہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم ، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم النمیمۃ ، ص ۶۶، الحدیث۱۶۸۔ (۱۰۵)