Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
137 - 676
باب:20 
غیبت وچغلی
غیبت پر وعید:
	خداوند قدوس نے قرآنِ مجید میں غیبت کی مذمت کرتے ہوئے غیبت کرنے والوں کو مردار کا گوشت کھانے والے کہا چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ (1)
ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے۔
	فرمانِ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے کہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(2)
	ارشادِ نبوی ہے کہ اپنے آپ کو غیبت سے بچاؤ کیونکہ غیبت زنا سے بدتر ہے، کیونکہ زانی گناہ کے بعد توبہ کرتا ہے تو اللہ تَعَالٰی قبول کرلیتا ہے مگر غیبت کا گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک کہ جس کی غیبت کی جائے وہ معاف نہ کردے۔(3)
	کہتے ہیں : غیبت کرنے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک منجنیق لگائی اور وہ اس منجنیق کے ذریعے دائیں بائیں نیکیاں پھینک رہا ہے۔
	رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: جو کسی مسلمان بھائی کی برائی چاہتے ہوئے غیبت کرتا ہے، اللہ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا۔(پ۲۶،الحجرات: ۱۲)
2… مسلم ، کتاب البر والصلۃ والاداب ، باب تحریم ظلم المسلم۔۔۔الخ، ص ۱۳۸۶، الحدیث ۳۲۔(۲۵۶۴)
3…شعب الایمان ، الرابع والاربعون۔۔۔الخ ، باب فی تحریم اعراض الناس، ۵/۳۰۶، الحدیث ۶۷۴۱  و جامع الاحادیث ،۳/۳۹۰، الحدیث۹۳۱۰