’’توراۃ‘‘ میں مرقوم ہے: اے انسان! میری بارگاہ میں روتے ہوئے حاضری دینے سے نہ گھبر ا میں (تیرا خدا) تیرے دل سے بھی زیادہ قریب ہوں اور ہر جگہ میرا نور جلوہ فگن ہے۔
روایت ہے: حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے منبر پر فرمایا: حالت اسلام میں انسان بوڑھا ہوجاتا ہے مگر اس کی نماز کامل نہیں ہوتی۔ پوچھا گیا: وہ کیسے؟ فرمایا: دل میں خشوع نہ آیا، انکساری پیدا نہ ہوئی اور نماز میں اللہ تَعَالٰی کی طرف ہمہ تن متوجہ نہ بنا۔ (توپھر نماز کیسے کامل ہوئی؟)
ابوالعالیہ رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ سے اس آیت: اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَا تِہِمْ سَاھُوْنَ کے معنی دریا فت کئے گئے، انہوں نے کہا: یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں بھول جاتا ہے اور اسے یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے دورکعت پڑھی ہیں یا تین؟
حضرت حسن رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے کہ یہ ارشادِ الٰہی اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز کو بھول جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے، اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ میرے بندے فرائض کو ادا کئے بغیر مجھ سے رہائی نہیں پاسکیں گے۔(1)
اولاد کو کم عقلی سے بچانے کا نسخہ
"اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،داناۓ غُیْوب ،مُنَزّہ عن الْعُیُوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا فرمان ِحفاظت نشان ہے:جو شخص دستر خوان سے کھانے کے گرے ہوۓ ٹکڑ وں کو اٹھا کر کھاۓ وہ فراخی کی زندگی گزارتا ہے اور اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کم عقلی سے محفوظ رہتی ہے۔"
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ عزوجل ، ص ۳۶۵، الحدیث ۱۰۳۲