Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
134 - 676
مردوں کے لئے سونے کے زیورات کی حرمت سے پہلے آپ ایک دن سونے کی انگھوٹھی پہن کر منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا یہ مجھے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔(1)
	حضرتِ ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ایک مرتبہ اپنے باغ میں نماز پڑھی، اچانک ایک پرندہ اڑا اور وہ درختوں سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے لگا۔ حضرتِ ابوطلحہ رَضِیَ اللہ عَنْہ نے تعجب سے یہ منظر دیکھا تو وہ ادا شدہ رکعتوں کی تعداد بھول گئے، آپ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اس آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ! میں نے باغ اللہ کی راہ میں دے دیاہے، اب آپ جیسے چاہیں اسے خرچ کریں ۔ (2)
	ایک اور شخص نے حضرتِ عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے عہدِ خلافت میں اپنے اس باغ میں جو کھجوروں سے لدا ہوا تھا، نماز پڑھی تو اس کی نظر کھجوروں کے پھل دیکھنے میں ایسی الجھی کہ اُسے رکعتوں کی تعداد یا د نہ رہی، نماز ختم کر کے وہ حضرتِ عثمان رَضِیَ اللہ عَنْہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اس باغ کو اللہ کے نام پر بخش دیا ہے، اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردیجئے۔ حضرتِ عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے وہ باغ پچاس ہزار روپے میں فروخت کردیا۔
	اَسلاف کرام میں سے بعض حضرات کا ارشاد ہے کہ نماز میں چار چیزیں انتہائی بُری ہیں ،کسی دوسری طرف متوجہ ہونا،منہ پر ہاتھ پھیرنا،کنکریاں صاف کرنا اور گزرگا ہ پر نماز شروع کردینا۔
اللہ  تعالیٰ اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے:
	فرمانِ نبوی ہے کہ اللہ تَعَالٰی اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک وہ اپنی توجہ نماز سے نہیں ہٹاتا۔(3) حضرتِ ابوبکر رَضِیَ اللہُ  عَنْہ جب نماز میں کھڑے ہوتے توایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی میخ گڑی ہوئی ہے۔ بعض حضرات اتنے سکون سے رُکوع کرتے کہ پرندے انہیں پتھر سمجھ کر اُن کی پیٹھ پر بیٹھ جاتے۔
	ذوقِ سلیم بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب دنیاوی شان و شوکت والے انسانوں کے حضور لوگ انتہائی تعظیم سے حاضر ہوتے ہیں تو اس بادشاہوں کے بادشاہ کے حضور تو بطریقِ اَولیٰ تعظیم وتکریم سے حاضر ہونا چاہئے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، ۱۲/۳۲ ، الحدیث ۱۲۴۰۸
2…السنن الکبری للبیقی ، کتاب الصلوۃ ، باب من نظر فی صلاتہ۔۔۔الخ،۲/۴۹۲، الحدیث ۳۸۷۳
3…ابوداود، کتاب الصلاۃ ، باب الالتفات فی الصلاۃ ، ۱/۳۴۴ ، الحدیث۹۰۹