Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
131 - 676
	فرمانِ نبوی ہے: نماز سکون اور تواضع کے ساتھ ہے، (1)جو اپنی نماز کے باعث فحش اور برے کاموں سے نہ رکا، اللہ تَعَالٰی سے اس کی دوری بڑھتی جاتی ہے (2)پس غافل کی نماز اُسے برائیوں سے نہیں روکتی ہے۔
	فرمانِ نبوی ہے: بہت سے نمازی ایسے ہیں جن کو نمازوں سے دکھ اور تکلیف کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔(3) 
	حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: بندہ کا نماز میں وہی حصہ ہے جسے وہ کامل توجہ سے پڑھتا ہے۔(4 )
	اہلِ معرفت کہتے ہیں : نماز چار چیزوں کا نام ہے، علم سے آغاز، حیا کے ساتھ قیام، تعظیم سے ادائیگی اور خوفِ خدا کے ساتھ اس کا اختتام۔ بعض مشائخ کا قول ہے: جس کا دل نماز کی حقیقت کو نہ سمجھتا ہو اس کی نماز فاسد ہے۔
	فرمانِ رسولِ مقبول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمہے: جنت میں ’’ اَفْیَح ‘‘نام کی ایک نہر ہے جس میں زعفران سے پیدا کی ہوئی حوریں موتیوں کے ساتھ دل بہلاتی رہتی ہیں اور ستر ہزار زبانوں میں اللہ تَعَالٰی کی تسبیح کرتی رہتی ہیں ، ان کی آوازیں حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کے لحن سے زیادہ شیریں ہیں ، وہ کہتی ہیں ہم ان کے لئے ہیں جو خضوع و خشوع سے نمازیں پڑھتے ہیں ، اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: میں ایسے نمازی کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دونگا اور اسے شرفِ دیدار بخشوں گا جو خضوع و خشوع سے نمازیں ادا کرتا ہے۔(5)
نماز کس طرح ادا کی جائے:
	اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی: اے موسیٰ! جب تو دل شکستہ ہوکر مجھے یاد کرتا ہے تو میں تجھے یاد کرتا ہوں ، کامل اطمینان اور خشوع سے میرا ذکر کیا کر، اپنی زبان کو دل کا مطیع بنا، میری بارگاہ میں عبد ذلیل کی طرح حاضری دے، خوف زدہ دل سے مجھے پکار اور سچائی کی زبان سے مجھے بلاتا رہ ۔
	اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  پر وحی نازل فرمائی کہ اپنی امت کے گنہگاروں سے کہدو! میرا ذکر نہ کریں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سنن الترمذی ، ابواب الصلاۃ ، باب ما جاء فی التخشع فی الصلاۃ ،۱/۳۹۵ ، الحدیث۳۸۵
2…المعجم الکبیر ۱۱/۴۶، الحدیث ۱۱۰۲۵
3…ابن ماجہ ، کتاب الصیام ، باب ماجاء فی الغیبۃ۔۔۔الخ، ۲/۳۲۰ ، الحدیث۱۶۹۰ماخوذًا وملخصًا
4…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی، ۶/۲۹۴و المغنی عن حمل الاسفار للعراقی ،۱/۱۶۷، الحدیث۶۷۴
5…