باب 19
نماز میں خشوع و خضوع
درود شریف کی فضیلت:
حدیث شریف میں ہے: ایک دن جبریل اَمین حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورکہا: میں نے آسمانوں پر ایک ایسا فرشتہ دیکھا جوتخت نشین تھا اور ستر ہزار فرشتے صف بستہ اس کی خدمت میں حاضر تھے، اس کے ہر سانس سے اللہ تَعَالٰی ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے، ابھی ابھی میں نے اسے شکستہ پروں کے ساتھ کوہِ قاف میں روتے ہوئے دیکھا ہے، جب اس نے مجھے دیکھا تو کہا تم اللہ تَعَالٰی کے حضور میری سفارش کرو۔ میں نے پوچھا: تیرا جرم کیا ہے؟ اُس نے کہا: معراج کی رات جب محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سواری گزری تو میں تخت پر بیٹھا رہا، تعظیم کے لئے کھڑا نہیں ہوا، اِس لئے اللہ تَعَالٰی نے مجھے اِس جگہ اِس عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔ جبریل اَمین نے کہا: میں نے اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں رو رو کر اُس کی سفارش کی، اللہ تَعَالٰی نے مجھ سے فرمایا: تم اس سے کہو کہ یہ محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود بھیجے، چنانچہ اس فرشتہ نے آپ پر درود بھیجا تو اللہ تَعَالٰی نے اس کی اس لغزش کو معاف کردیا اور اس کے نئے پَر بھی پیدا فرما دیئے۔(1)
قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا
روایت ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نمازیں دیکھی جائیں گی، اگر اُس کی نمازیں مکمل ہوئیں تو نمازوں سمیت اُس کے سارے اَعمال قبول کر لئے جائیں گے، اگر نمازیں نامکمل ہوئیں تو نمازوں سمیت اُس کے تمام اَعمال رَدّ کردیئے جائیں گے۔ (2)حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمان ہے: فرض نماز ترازو کی طرح ہے، جس نے اِنہیں پورا کیا وہ کامیاب رہا۔ (3)حضرتِ یزید الرقاشی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں ، حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نماز اِس طرح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…
2…المعجم الاوسط، ۱/۵۰۴، الحدیث ۱۸۵۹ ماخوذاً
3…الزھد لابن المبارک ، ص ۴۱۹ ، الحدیث ۱۱۹۰