اور لوگوں سے دور ہوتا ہے اور جہنم سے قریب ہوتا ہے،(1)
فرمانِ نبوی ہے کہ جاہل سخی، اللہ تَعَالٰی کو عابد بخیل سے زیادہ پسند ہے۔(2)
فرمانِ نبوی ہے کہ قیامت کے دن چار شخص بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے، عالِم باعمل، حاجی جس نے حج کے بعد موت تک گناہوں کا ارتکاب نہ کیا، شہید جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے میدانِ جنگ میں مارا گیا، سخی جس نے مالِ حلال کمایا اور اللہ کی رضا جوئی میں خرچ کردیا، یہ لوگ ایک دوسرے سے اس بات پر جھگڑیں گے کہ جنت میں پہلے کون داخل ہوتا ہے۔(3)
حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہما سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بعض بندوں کو مال و دولت سے مالا مال کردیا تاکہ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچاتے رہیں جو شخص فائدہ پہنچانے میں پس و پیش کرتا ہے، اللہ تَعَالٰی اس کی دولت کسی اور کو دے دیتا ہے۔(4)
فرمانِ نبوی ہے: سخاوت بہشت کا ایک درخت ہے جس کی شاخیں زمین پر جُھکی ہوئی ہیں جس نے اس کی کسی شاخ کو تھام لیا وہ اسے جنت میں لے جائے گی۔(5)
حضرتِ جابر رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے: حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: صبر اور سخاوت۔(6)
حضرتِ مقدام بن شریح رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ اپنے والد اور اپنے جد سے روایت کرتے ہیں ، ان کے دادا نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے ایسا عمل بتلائیے جو مجھے جنت کا مکین بنادے۔ آپ نے فرمایا: مغفرت کے اسباب میں سے کھانا کھلانا، سلام کرنا اور خوش اخلاقی ہے۔(7)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، الرابع والسبعون۔۔۔الخ ، باب فی الجودو السخاء ، ۷/۴۲۸، الحدیث۱۰۸۴۸
2…المرجع السابق
3… روح البیان،الانفال، تحت الآیۃ:۴، ۳/۳۱۴
4…المعجم الاوسط ، ۴/۴۶، الحدیث ۵۱۶۲
5…شعب الایمان الرابع والسبعون۔۔۔الخ، باب فی الجودو السخاء ۷/۴۳۴، الحدیث ۱۰۸۷۵
6…شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، باب فی الصبر علی المصائب ، ۷/۱۲۲ الحدیث ۹۷۱۰
7…المعجم الکبیر ۲۲/۱۸۰، الحدیث ۴۶۹ و۴۷۰