Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
127 - 676
 اس نیت کی بدولت ہی اتنا ثواب دے دیا ہے، اسی لئے فرمانِ نبوی ہے، مومن کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے۔(1)
حکایت:
	حضرتِ عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام ایک مرتبہ کہیں جارہے تھے، آپ نے شیطان کو دیکھا ایک ہاتھ میں شہد اور دوسرے میں راکھ لئے چلا جارہا تھا، آپ نے پوچھا: اے دشمن خدا! یہ شہد اور راکھ تیرے کس کام آتی ہے؟ شیطان نے کہا: شہدغیبت کرنے والوں کے ہونٹوں پر لگاتا ہوں تاکہ وہ اور آگے بڑھیں ، راکھ یتیموں کے چہروں پر ملتا ہوں تاکہ لوگ ان سے نفرت کریں ۔ 
	حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: جب یتیم کو دکھ دیا جاتا ہے تو اس کے رونے سے اللہ تَعَالٰی کا عرش کانپ جاتا ہے، اور ربّ ذوالجلال فرماتا ہے: اے فرشتو! اس یتیم کو جس کا باپ منوں مٹی تلے دفن ہوچکا ہے، کس نے رلایا ہے؟ (2) 
	حضورِ انور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم  کا ارشاد ہے کہ جس نے یتیم کے لباس و طعام کی ذمہ داری لے لی، اللہ تَعَالٰی نے اس کے لئے جنت کو واجب کردیا۔(3) 
	 ’’رَوْضَۃُ الْعُلَمَاء‘‘ میں ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کھانے سے پہلے میل دو میل کا چکر لگا کر مہمانوں کو تلاش کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہ رو پڑے، پوچھا گیا: آپ کیوں روئے؟ آپ نے فرمایا: ایک ہفتہ ہو گیا، میرے ہاں کوئی مہمان نہیں آیا، شاید اللہ تَعَالٰی مجھ سے خوش نہیں ہے۔
	 فرمانِ نبوی ہے: جو کسی بھو کے کو فی سبیل اللہ کھانا کھلاتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے  (4)اور جس نے کسی بھو کے سے کھانا روک لیا اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن اس شخص سے اپنا فضل و کرم روک لے گا اور عذاب دے گا۔  (5)
سخی، اللہ کے قریب اور جہنم سے دور ہوتا ہے :
	فرمانِ نبوی ہے: سخی اللہ تعالیٰ، جنت اور لوگوں کے قریب ہوتا ہے اور جہنم سے دور ہوتا ہے، بخیل اللہ تعالیٰ، جنت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، الخامس والاربعون۔۔۔الخ، باب فی اخلاص العمل۔۔۔الخ، ۵/۳۴۳، الحدیث ۶۸۵۹
2…فردوس الاخبار، ۲/۵۰۷، الحدیث: ۸۵۵۷ 
3…شرح السنۃ، کتاب البر والصلۃ ، باب ثواب کا فل الیتیم ، ۶/۴۵۲، الحدیث ۳۳۵۱.ملخصا
4…ابن عساکر ۱۲/۲۷۰ و کنز العمال، ۱۶/۹۷، الحدیث ۴۴۲۷۲ بتغییر الالفاظ
5…