کا گزر ایک قافلہ سے ہوا، آپ کو اندیشہ لاحق ہوا کہیں کوئی ان کا سامان نہ چرالے، راستے میں انہیں حضرتِ عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ عَنْہ ملے اور انہوں نے پوچھا: امیر المؤمنین! اس وقت کہاں تشریف لے جارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ایک قافلہ قریب اترا ہے، مجھے ڈر ہے کہیں کوئی چور اُن کا سامان نہ لیجائے، چلو ان کی نگہبانی کریں ، یہ دونوں حضرات قافلہ کے قریب جاکر بیٹھ گئے اور ساری رات پہرہ دیتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی، حضرتِ عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے آواز دی اے قافلہ والو! نماز کے لئے اٹھو! جب قافلہ میں جاگ ہوگئی تو یہ حضرات واپس لوٹے۔
پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر چلیں ، اللہ تَعَالٰی نے ان کی تعریف میں ارشاد فرمایا:
’’ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ ‘‘(1)وہ مسلمانوں پر بلکہ تمام مخلوق پر رحم کرنے والے ہیں یہاں تک کہ ذمی کافر بھی ان کی نگاہِ شفقت سے محروم نہ رہے۔
حضرت عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے ایک بوڑھے ذمی کو لوگوں کے دروازوں پر بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ہم نے تیرے ساتھ انصاف نہیں کیا، جوانی میں تجھ سے جزیہ لیتے رہے اور بڑھاپے میں تجھے دربدر ٹھوکریں کھانے کو چھوڑ دیا، آپ نے اسی وقت بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر کردیا۔
حضرتِ علی کَرَّمَاللہُ وَجْہَہسے مروی ہے: میں نے ایک صبح حضرتِ عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ کو دیکھا ایک وادی میں اونٹ پر سوار چلے جارہے ہیں ، میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! کہاں جارہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ گم ہوگیا ہے۔ اسے تلاش کررہا ہوں ، میں نے کہا آپ نے بعد میں آنے والے خلفاء کو مشکل میں ڈالدیا ہے، حضرت عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ نے جواب میں کہا: اے ابو الحسن! (رَضِیَ اللہ عَنْہ) مجھے ملامت نہ کرو، رب ذوالجلال کی قسم! جس نے محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کو نبی برحق بناکر بھیجا، اگر دریائے فرات کے کنارے ایک سالہ بھیڑ کا بچہ بھی مرجائے تو قیامت کے دن اس کے بارے میں مواخذہ ہوگا کیونکہ اس امیر کی کوئی عزت نہیں جس نے مسلمانوں کو ہلاک کردیا اور نہ ہی اس بدبخت کا کوئی مقام ہے جس نے مسلمانوں کو خوف زدہ کیا۔
رحم کے بارے میں ارشاداتِ نبویہ:
فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم ہے: میری امت کے لوگ جنت میں نماز روزوں کی کثرت سے نہیں بلکہ دلوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂکنزالایمان:آپس میں نرم دل۔(پ۲۶،الفتح:۲۹)