باب:18
فضیلتِ رحم
رسولِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کا ارشاد ہے: جنت میں رحم کرنے والا ہی داخل ہوگا، صحابہ کرام نے کہا: ہم سب رحم کرنے والے ہیں ، آپ نے فرمایا: رحیم وہ نہیں جو اپنے آپ پر رحم کرے بلکہ رحیم وہ ہے جو اپنے آپ پر اور دوسروں پر رحم کرے۔(1)
رحم کی حقیقت:
اپنے آپ پر رحم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خلوصِ دل سے عبادت کر کے گناہوں سے کنارہ کش ہو کر اور توبہ کر کے اپنے وجود کو اللہ کے عذاب سے بچائے، دوسروں پر رحم یہ ہے کہ کسی مسلمان کو تکلیف نہ دے۔
فرمانِ حضورِ انور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم ہے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں (2) اور وہ جانوروں پر رحم کرے، ان سے ان کی طاقت کے مطابق کام لے۔
حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کا فرمان ہے: ایک شخص سفر میں جارہا تھا کہ اسے راستہ میں سخت پیاس لگی، اسے قریب ہی ایک کنواں نظر آیا، جب کنوئیں سے پانی پی کر چلا تو دیکھا ایک کتا پیاس کے مارے زبان باہر نکالے پڑا ہے، اسے خیال آیا کہ اسے بھی میری طرح پیاس لگی ہوگی، وہ واپس گیا، منہ میں پانی بھر کر کتے کے پاس آیا اور اسے پلادیا، اللہ تَعَالٰی نے محض اسی رحم کی بدولت اس کے گناہوں کو معاف کردیا۔
صحابہ کرام نے سوال کیا: یا رسول اللہ ! (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) جانوروں پر شفقت کرنے سے بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر ذی روح پر شفقت کا اجر ملتا ہے۔(3)
حضرتِ اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مروی ہے: ایک رات حضرتِ عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ گشت لگارہے تھے کہ آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، الخامس والسبعون۔۔۔الخ، باب فی رحم الصغیر ۔۔۔الخ ۷/۴۷۸، الحدیث ۱۱۰۵۹
2…مسلم، کتاب الایمان، باب بیان تفاضل الاسلام۔۔۔الخ، ص۴۱، الحدیث ۶۵۔(۴۱)
3…بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب الابار علی الطرق۔۔۔الخ ،۲/۱۳۳،الحدیث ۲۴۶۶