وہ کہاں جائیں گے؟ اے رب قادر و قہار! اگر تیری بخشش جاتی رہی اور میرے لئے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہگاروں کا عذاب مجھے دیدے، میں ان پر اپنی جان قربان کرتا ہوں ۔ اللہ تَعَالٰی نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا: جاؤ اور میرے بندے سے کہہ دو کہ تونے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے، اگر تیرے گناہوں سے زمین پُر ہو جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
رسول کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کا ارشاد ہے کہ اللہ تَعَالٰی کو گنہگار توبہ کرنے والے کی آواز سے زیادہ محبوب اور کوئی آواز نہیں ہے، جب وہ اللہ کہہ کر بلاتا ہے تو رب تعالیٰ فرماتا ہے: میں موجود ہوں ، جوچاہے مانگ! میری بارگاہ میں تیرا رتبہ میرے بعض فرشتوں کے برابر ہے، میں تیرے دائیں ، بائیں ، اوپر ہوں اور تیری دھڑکن سے زیادہ قریب ہوں ، اے فرشتو! تم گواہ ہوجاؤ کہ میں نے اسے بخش دیا ہے۔(1)
حضرتِ ذوالنون مصری رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ نے کہا ہے: اللہ تَعَالٰی کے بہت سے ایسے بندے ہیں جنہوں نے خطاؤں کے پودے لگائے، انہیں توبہ کا پانی دیا اور حسرت و ندامت کا پھل کھایا، وہ دیوانگی کے بغیر دیوانے کہلائے اور بغیر کسی مشقت کے لذتیں حاصل کیں ، یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی معرفت رکھنے والے فصیح و بلیغ حضرات ہیں اور عدیم النظیر ہیں ، انہوں نے محبت کے جام پئے اور مصائب پر صبر کرنے کی دولت سے مالا مال ہوئے پھر عالمِ ملکوت میں ان کے دل غمزدہ ہوگئے اور عالمِ جبروت کے حجابات کی سیر نے ان کے افکار کو جلا بخشی، انہوں نے ندامت کے خیموں میں بسیرا کیا، اپنی خطاؤں کے صحیفوں کو پڑھا اور گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے، یہاں تک کہ وہ اپنی پرہیزگاری کی بدولت زہد کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہوئے، انہوں نے ترکِ دنیا کی تلخی کو شیریں سمجھا اور سخت بستروں کو انتہائی نرم جانا تا آنکہ انہوں نے راہِ نجات اور سلامتی کی بنیادوں کو پالیا، انکی ارواح کو بہشت کے باغوں میں جگہ ملی اور ابدی زندگی کے مستحق قرار پائے، انہوں نے آہ و بکاء کی خندقوں کو پاٹ دیا اور خواہشات کی پُلوں کو عبور کر گئے یہاں تک کہ وہ علم کے ہمسائے ہوئے اورحکمت و دانائی کے تالاب سے سیراب ہوئے، وہ فہم و فراست کی کشتیوں میں سوار ہوئے، انہوں نے سلامتی کے دریا میں نجات کی دولت سے قلعے بنائے اور راحت کے باغات اور عزت و کرامت کے خزانوں کے مالک بن گئے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنز العمال،کتاب التوبۃ، قسم الاقوال۔۔۔الخ۲/۹۵، الجزء الرابع، الحدیث۱۰۲۷۶ماخوذا