Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
122 - 676
 اور میں الٹے قدم واپس پہنچا اور لڑکی سے بدکاری کی۔ میں گناہ کر کے ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ لڑکی کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی: اے جوان خدا تجھے غارت کرے تجھے اس نگہبان کا خوف نہیں آیا جوہر مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلاتا ہے، تونے مجھے مردوں کی جماعت سے برہنہ کردیا اور دربارِ خداوندی میں ناپاک کردیا ہے، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے جب یہ سنا تو فرمایا: دور ہوجا اے بدبخت! تو نارِ جہنم کا مستحق ہے۔
	جوان وہاں سے روتا ہوا اور اللہ تَعَالٰی سے استغفار کرتا ہوا نکل گیا۔ جب اسے اسی حالت میں چالیس دن گزر گئے تو اس نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور کہا: اے محمد وآدم و ابراہیم (عَلَیْہِمُ السَّلَام) کے رب! اگر تو نے میرے گناہ کو بخش دیا ہے تو حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم اور آپ کے صحابہ کو مطلع فرماوگرنہ آسمان سے آگ بھیج کر مجھے جلادے اور جہنم کے عذاب سے بچالے۔ اسی وقت حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا :آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ مخلوق کو تم نے پیدا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ مجھے اور تمام مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسی نے رزق دیا ہے، تب جبریل نے کہا: اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے میں نے جوان کی توبہ قبول کرلی ہے۔ پس حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے جوان کو بلا کر اسے توبہ کی قبولیت کا مژدہ سنایا۔(1)
ایک درد انگیز توبہ:
	حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی قائم نہیں رہتا تھا، جب بھی وہ توبہ کرتا اسے توڑ دیتا یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے ۔ اللہ تَعَالٰی نے حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی کی، میرے اس بندے کو کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں، جب حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہوا اور بیابانوں کی	 طرف نکل گیا، وہاں جاکر بارگاہِ رب العزت میں عرض کی: اے ربِّ ذوالجلال! تیری رحمت جاتی رہی یا میرے گناہوں نے تجھے دکھ دیا؟ تیری بخشش کے خزانے ختم ہوگئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفو و درگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تو کریم ہے، میں بخیل ہوں ، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آگیا ہے؟  اگر تو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کردیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تونے انہیں راندۂ  درگاہ کردیا تو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الکشف والبیان للثعلبی ، ۸/۲۳۳