Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
121 - 676
 جواز کے سلسلہ میں جو کام انہوں نے کئے ہیں اور ان سے طلبِ مغفرت میں انہوں نے کوئی اہتمام نہیں کیا اور ان کے لئے یہ بات آسان ہے کہ اللہ تَعَالٰی اس سے راضی ہوجائے۔ گناہوں کو بھول جانا بہت خطرناک بات ہے، ہر عقلمند کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے اور اپنے گناہوں کو نہ بھولے۔
یاایھا  المذنب  المحصی  جرائمہ		لاتنس  ذنبک  واذکر منہ  ماسلفا
وتب الی اللہ قبل الموت وانزجرا		یاعاصیا  واعترف  ان  کنت  معترفا
{1}…اے گناہوں کو شمار کرنے والے مجرم اپنے گناہوں کو مت بھول اور گزشتہ غلطیوں کو یاد کرتا رہ۔
{2} …موت سے پہلے اللہ تَعَالٰی کی طرف رجوع کرلے، گناہوں سے رک جا اور غلطیوں کا اعتراف کرلے۔
	فقیہ ابواللیث رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ سے مروی ہے:حضرتِ عمر رَضِیَ اللہ عَنْہ  ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے، آپ نے دریافت فرمایا کہ اے عمر! کیوں روتے ہو؟ عرض کی: حضور! دروازے پر کھڑے ہوئے جوان کی گریہ وزاری نے میرا جگر جلا دیا ہے۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: اسے اندر بلاؤ! جب جوان حاضِر خدمت ہوا تو آپ (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم) نے پوچھا :اے جوان! تم کس لئے رورہے ہو؟ عرض کی: حضور میں اپنے گناہوں کی کثرت اور ربِّ ذوالجلالکی ناراضگی کے خوف سے رورہا ہوں ۔ آپ نے پوچھا: کیا تو نے شرک کیا ہے؟ کہا: نہیں یارسول اللہ ! (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)، کیا تو نے کسی کو ناحق قتل کیا ہے؟ آپ نے دوبارہ پوچھا۔ عرض کیا: نہیں یارسول اللہ! (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تیرے گناہ ساتوں آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں کے برابر ہوں تب بھی اللہ تَعَالٰی اپنی رحمت سے بخش دے گا۔
	جوان بولا: یارسول اللہ! میرا گناہ ان سے بھی بڑا ہے، آپ نے فرمایا: تیرا گناہ بڑا ہے یا کرسی؟ عرض کی: میرا گناہ، آپ نے فرمایا: تیرا گناہ بڑا ہے یا عرشِ الٰہی؟ عرض کی: میرا گناہ، آپ نے فرمایا تیرا گناہ بڑا ہے یا ربِّ ذوالجلال! عرض کی ربِّ ذوالجلال بہت عظیم ہے۔ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا: بلاشبہہ جرمِ عظیم کو ربِ عظیم ہی معاف فرماتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: تم مجھے اپنا گناہ تو بتلاؤ، عرض کی: حضور مجھے آپ کے سامنے عرض کرتے ہوئے شرم آتی ہے، آپ نے فرمایا: کوئی بات نہیں تم بتلاؤ! عرض کی: حضور میں سات سال سے کفن چوری کررہا ہوں ، انصار کی ایک لڑکی فوت ہوگئی تو میں اس کا کفن چرانے جاپہنچا، میں نے قبر کھود کر کفن لے لیا اور چل پڑا، کچھ ہی دور گیا تھا کہ مجھ پر شیطان غالب آگیا