Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
120 - 676
کوئی نہیں ہوگا۔(1)
	حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہسے مروی ہے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا کہ مخلوق کی پیدائش سے چار ہزار برس قبل عرش کے چاروں طرف لکھ دیا گیا تھا کہ
وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿۸۲﴾ (2)
جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کئے میں اسے بخشنے والاہوں ۔ 
   	 صغیرہ اور کبیرہ تمام گناہوں سے توبہ فرضِ عین ہے کیونکہ صغیرہ گناہوں پر اصرار انہیں کبیرہ گناہ بنادیتا ہے۔فرمانِ الٰہی ہے :
وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوۡۤا اَنْفُسَہُمْ (3)
	توبۂ نصوح یہ ہے کہ انسان ظاہر و باطن سے توبہ کرے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم صمیم کرے، جو شخص ظاہری طور پر توبہ کرتا ہے اس کی مثال ایسے مردار کی ہے جس پر ریشم و کمخواب کی چادریں ڈال دی گئی ہوں اور لوگ اسے حیرت و استعجاب سے دیکھ رہے ہوں ، جب اس سے چادریں ہٹالی جائیں تو لوگ منہ پھیر کر چل دیں ، اسی طرح لوگ عبادتِ ریائی کرنے والوں کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے رہتے ہیں لیکن قیامت کا دن ہوگا تو ان کے فریب کا پردہ چاک کردیا جائے گا اور فرشتے منہ پھیر کر چل دیں گے چنانچہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ تَعَالٰی تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔(4)
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہمَا سے مروی ہے: قیامت کے دن بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو خود کو تائب سمجھ کر آئیں گے مگر ان کی توبہ قبول نہیں ہوئی ہوگی اس لئے کہ انہوں نے توبہ کے دروازے کو شرمندگی سے مستحکم نہیں کیا ہوگا،(5) توبہ کے بعد گناہ نہ کرنے کا عزم نہیں کیا ہوگا، مظالم کو اپنی امکانی طاقت تک دفع نہیں کیا ہوگا اور آسان امور کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنز العمال،کتاب التوبۃ ، قسم الاقوال۔۔۔الخ ،۲/۸۷، الجزء الرابع، الحدیث۱۰۱۷۵ ماخوذا
2…ترجمۂکنزالایمان:اور بے شک میں بہت بخشنے والا ہوںاسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔	 (پ۱۶، طہ:۸۲)… فردوس الاخبار، ۲/۳۴۰، الحدیث ۶۷۰۸
3…ترجمۂکنزالایمان:اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (پ۴،اٰلِ عمران:۱۳۵)
4…مسلم، کتاب البروالصلۃ والاٰداب، باب تحریم ظلم المسلم۔۔۔الخ،ص ۱۳۸۷، الحدیث ۳۳۔ (۲۵۶۴)
5…شعب الایمان ، السابع والاربعون من شعب الایمان باب فی معالجۃ کل ذنب۔۔۔الخ، ۵/۴۳۶،الحدیث ۷۱۷۹