Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
119 - 676
	حضرت فضیل رَحْمَۃُاللہ ِعَلَیْہ کا قول ہے؛ربِّ ذُوالْجَلَال کا ارشاد ہے: گنہگاروں کو بشارت دے دو، اگر وہ توبہ کریں تو میں قبول کرلوں گا، صدیقین کو متنبہ کردیجئے اگر میں نے اعمال کا وزن کیا توانہیں عذاب سے کوئی نہیں بچاسکتا۔
	حضرتِ عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہمَا  کا ارشاد ہے: جو گناہوں کی یاد میں پشیمان ہوگیا اور اس کا دل خوفِ خدا سے کانپ گیا، اس کے گناہوں کو محو کردیا جاتا ہے۔
 باب توبہ کبھی بند نہیں ہوتا:
	حضرتِ ابن مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہ سے ایک شخص نے دریافت کیا: میں گناہ کر کے انتہائی شرمندہ ہوں ، میرے لئے توبہ ہے؟ آپ نے منہ پھیر لیا، جب دوبارہ اس شخص کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، کھولے بھی جاتے ہیں اور بند بھی کئے جاتے ہیں سوائے باب توبہ کے، وہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا اور اسی کام کے لئے اُس پر ایک فرشتہ مامور ہے۔ عمل کرتا رہ اور رب کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔
	روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک جوان شخص نے بیس سال متواتر اللہ تَعَالٰی کی عبادت کی ، پھر بیس سال گناہوں میں بسر کئے، ایک مرتبہ آئینہ دیکھا تو اسے داڑھی میں بڑھاپے کے آثار نظر آئے، وہ بہت غمگین ہوا اور بارگاہِ رب العزت میں گزارش کی: اے ربِّ ذُوالْجَلَال! میں نے بیس سال تیری عبادت کی، پھر بیس سال گناہوں میں بسر کئے، اب اگر میں تیری طرف لوٹ آؤں تو مجھے قبول کرلے گا؟ اس نے ہاتفِ غیبی کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا: تو نے ہم سے محبت کی، ہم نے تجھے محبوب بنایا، تونے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے تمہیں چھوڑ دیا، تونے گناہ کئے ہم نے مہلت دے دی، اب اگر تو ہماری بارگاہ میں لوٹے گا تو ہم تجھے شرفِ قبولیت بخشیں گے۔(1)
توبہ کے بارے میں سرورِ کونین صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشادِ گرامی :
	حضرتِ ابن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہما سے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے فرمایا جب بندہ توبہ کرتا ہے، اللہتعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، محافظ فرشتے اس کے ماضی کے گناہوں کو بھول جاتے ہیں ، اس کے اعضائے جسمانی اس کی خطاؤں کو بھول جاتے ہیں ، زمین کا وہ ٹکڑا جس پر اس نے گناہ کیا ہے اور آسمان کا وہ حصہ جس کے نیچے اس نے گناہ کیا ہے اس کے گناہوں کو بھول جاتے ہیں ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے گناہوں پر گواہی دینے والا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان ، پ ۱۰، التوبۃ ، تحت الایۃ ۶، ۳/۳۸۹