Brailvi Books

مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب
118 - 676
نے فرمایا گناہ کے بعد فوراً اس کی آنکھیں بارگاہِ رب العزت میں اشکبار ہوجاتی ہیں ۔ (1)
	فرمانِ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم ہے کہ ندامت گناہوں کا کفارہ ہے۔(2)
	نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کا ارشادِ گرامی ہے: گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ (3)
	حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم کی خدمت میں ایک حبشی حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ! میں خطائیں کرتا ہوں ، کیا میری توبہ قبول ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! وہ کچھ دور جاکرو اپس لوٹ آیا اور دریافت کیا کہ جب میں گناہ کرتا ہوں تو اللہ تَعَالٰی دیکھتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :ہاں ! حبشی نے اتنا سنتے ہی ایک چیخ ماری اور اس کی روح پرواز کر گئی۔(4)
زندگی کے آخری سانس تک توبہ قبول ہوگی:
	روایت ہے کہ جب اللہ تَعَالٰی نے ابلیس کو ملعون قرار دیا تو اس نے قیامت تک کے لئے مہلت مانگی، اللہ نے اسے مہلت دے دی تو وہ کہنے لگا: مجھے تیرے عزت و جلال کی قسم! جب تک انسان کی زندگی کا رِشتہ قائم رہے گا میں اسے گناہوں پر اُکساتا رہوں گا۔ رب العزت نے فرمایا: مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم! میں انکی زندگی کی آخری سانسوں تک ان کے گناہوں پر توبہ کا پردہ ڈالتا رہوں گا۔(5)
	فرمانِ رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّم ہے: نیکیاں گناہوں کو اس طرح دور لے جاتی ہیں جیسے پانی میل کو بہالے جاتا ہے(6)(دور کردیتا ہے)۔
	حضرت سعید بن مُسَیِّب رَضِیَ اللہ  عَنْہ سے مروی ہے کہ یہ آیت:  فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوّٰبِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾ (7)اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو گناہ کرتا پھر توبہ کرلیتا پھر گناہ کرتا اور پھر توبہ کرلیتا تھا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کتاب ا لزھد لابن المبارک ، باب ماجاء فی الخشوع والخوف، ص ۵۲، الحدیث ۱۶۲
2…شعب الایمان ، السابع والاربعون من۔۔۔الخ ، باب فی معالجۃ۔۔۔الخ، ۵/۳۸۸، الحدیث ۷۰۳۹
3…ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر التوبۃ ، ۴/۴۹۱، الحدیث ۴۲۵۰
4…طبقات الشافیۃ الکبری للسبکی، ۶/۳۵۶ و احیاء علوم الدین، ۴/۱۷
5…شعب الایمان ، السابع والاربعون۔۔۔الخ، باب فی معالجۃ کل ذنب۔۔۔الخ، ۵/۳۹۹، الحدیث۷۰۷۰
6…کشف الخفاء،۱/۱۹۶، تحت الحدیث:۶۶۳ والفتوحات المکیۃ، ۸/۴۱۶وطبقات الشافیۃ الکبری للسبکی، ۶/۳۵۶ 
7…ترجمۂکنزالایمان: تو بے شک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے ۔ (پ۱۵، بنی اسرائیل:۲۵)